سہیل آفریدی سیاسی مذاکرات کا چوتھا ڈرافٹ افغانستان سے منظور کرا رہے تھے، طارق فضل چوہدری کا بڑا انکشاف

سہیل آفریدی سیاسی مذاکرات کا چوتھا ڈرافٹ افغانستان سے منظور کرا رہے تھے، طارق فضل چوہدری کا بڑا انکشاف

وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے انکشاف کیا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سیاسی مذاکرات کے چوتھے ڈرافٹ کی منظوری افغانستان سے لے رہے تھے۔

نجی ٹی وی کے ایک خصوصی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال اور پسِ پردہ ہونے والے مذاکرات سے متعلق اہم تفصیلات پر سے پردہ اٹھایا۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی باضابطہ ہدایت اور خواہش پر سیاسی تناؤ کو کم کرنے کے لیے مذاکراتی عمل کا آغاز کیا گیا تھا اور حکومت کو قوی امید تھی کہ یہ گفتگو کسی مثالی اور مثبت نتیجے پر پہنچے گی۔

یہ بھی پڑھیں:فضل الرحمٰن کا دہشت گردی کو معدنی وسائل سے جوڑنا افسوسناک ہے ، طارق فضل چوہدری

تاہم مذاکراتی ادوار کے دوران طے پانے والے چوتھے ڈرافٹ کے موقع پر پیش رفت اس وقت رک گئی جب موصول ہونے والی معلومات کے مطابق سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اس کی منظوری کے لیے افغان حکام و ذرائع سے رابطے کر رہے تھے۔

محمود خان اچکزئی کا کردار

طارق فضل چوہدری نے اپوزیشن اتحاد کے رہنما محمود خان اچکزئی کے حوالے سے میڈیا پر آنے والی خبروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کا مؤقف واضح تھا۔

محمود خان اچکزئی نے صاف الفاظ میں کہا تھا کہ بانی تحریک انصاف عمران خان سے بالمشافہ ملاقات اور مشاورت کے بغیر اس گفتگو کو ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اس وقت حکومت کی جانب سے مذاکرات میں عمران خان سے ملاقات کا ایک واضح ٹائم فریم اور پائیدار حل موجود تھا۔ اگر اس وقت چیزیں سلجھ جاتیں اور رکاوٹیں نہ ڈالی جاتیں تو آج ملک کے سیاسی حالات بالکل مختلف اور بہتر ہوتے۔

مذاکرات میں عمران خان سے ملاقات کا پائیدار حل موجود تھا، چیزیں سلجھ جاتیں تو آج ملک کے سیاستی حالات مختلف اور بہتر ہوتے، طارق فضل چوہدری

تحریک انصاف میں ممکنہ دھڑے بندی

تحریک انصاف کی جانب سے اسمبلیوں سے اجتماعی استعفے دینے کے لیے قائم کی جانے والی ممکنہ حکمت عملی پر تبصرہ کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے دعویٰ کیا کہ اپوزیشن صفوں میں یکجہتی کا فقدان ہے۔

مزید پڑھیں:پی ٹی آئی میں فارورڈ بلاک تشکیل پا رہا ہے، اسمبلیوں سے استعفے دینے کی صورت میں 40 سے زیادہ ارکان ساتھ نہیں دیں گے، طارق فضل چوہدری

انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اسمبلیوں کو خیرباد کہنے یا اجتماعی استعفے جمع کرانے کا حتمی فیصلہ کرتی بھی ہے، تو پارٹی کے کم از کم 40 ارکان اسمبلی اپنے عہدوں سے ہرگز استعفیٰ نہیں دیں گے اور اسمبلی میں موجود رہیں گے۔

سیاسی ڈائیلاگ میں بیرونی اثرات 

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں داخلی تنازعات کو دور کرنے کے لیے سیاسی مذاکرات ہی ہمیشہ سے مؤثر ذریعہ رہے ہیں۔

تاہم  جب سیاسی ڈائیلاگ اور فیصلہ سازی میں بیرونی یا سرحدی عوامل کی مداخلت کے الزامات سامنے آتے ہیں تو اس سے بات چیت کا پورا اعتماد مجروح ہو جاتا ہے۔

تحریک انصاف اور وفاق کے درمیان تعلقات میں بڑھتی ہوئی خلیج، قومی سلامتی اور خودمختاری کے حساس پہلوؤں کو چھوتی دکھائی دیتی ہے۔

سیاسی توازن برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے فیصلہ سازی کے اختیارات کو مکمل طور پر داخلی اور آئینی دائرہ کار کے اندر رکھیں، تاکہ افہام و تفہیم کے ذریعے جمہوری عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔

Related Articles