بھارت کی جانب سے ’پہلے ایٹمی حملے ‘ کی پالیسی اختیار کرنے کا ہولناک انکشاف، پاکستان نے عالمی برادری کو خبردار کردیا

بھارت کی جانب سے ’پہلے ایٹمی حملے ‘ کی پالیسی اختیار کرنے کا ہولناک انکشاف، پاکستان نے عالمی برادری کو خبردار کردیا

پاکستان کے سینیئر ایٹمی مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) مظہر جمیل نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت پہلے ایٹمی حملہ کرنے کی جارحانہ پالیسی پر گامزن ہو چکا ہے، جو خطے کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔

عرب نیوز کے مطابق پاکستان کی قومی کمانڈ اتھارٹی (این سی اے) کے مشیر اور اسٹریٹجک پلانز ڈویژن کے سابق ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل (ر) مظہر جمیل نے لندن میں ’انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹجک سٹڈیز‘(آئی آئی ایس ایس) اور ’سینٹر فار انٹرنیشنل اسٹریٹجک سٹڈیز‘کے زیرِ اہتمام 11 ویں ٹریک 1.5 ورکشاپ سے خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں انہوں نے متنبہ کیا کہ بھارت کی سمندر سے مسلسل دفاعی ایٹمی صلاحیت برقرار رکھنے کی سرگرمیاں اس کے ’پہلے ایٹمی حملہ نہ کرنے‘ (این ایف یو) کے دعوے کی نفی کرتی ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ بھارت کا این ایف یو دعویٰ محض ایک سفارتی ڈراما تھا جو اب بے نقاب ہو چکا ہے کیونکہ نئی دہلی کا عمل واضح طور پر پہلے حملے کا جارحانہ رخ اختیار کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے والے، محسن پاکستان، عظیم ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی 5 ویں برسی آج عقیدت سے منائی جا رہی ہے

جنیوا اور اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سیپری) کے جائزوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اطلاعات کے مطابق بھارت نے اپنی آبدوز سے داغے جانے والے بیلسٹک میزائلوں کے ساتھ ایٹمی وار ہیڈز کو جوڑنا اور سمندری گشت شروع کر دیا ہے۔

مظہر جمیل کا کہنا تھا کہ بھارتی آبدوزوں کے بیلسٹک میزائل ٹیسٹ کی پیشگی اطلاع نہ دینے کی پالیسی اور اس قسم کی پیش رفت کسی بھی بحرانی صورت حال میں غلط فہمی اور غلط اندازوں کے خطرے کو بے پناہ بڑھا دیتی ہے۔

پاکستان طویل عرصے سے ’نو وار پیکٹ‘ کی تجویز دیتا رہا ہے لیکن بھارت کی جانب سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی تیاری اور دہرے استعمال کی ٹیکنالوجی کا حصول خطے کے اسٹریٹجک توازن کو بگاڑ رہا ہے۔

ایٹمی سپلائرز گروپ کی چھوٹ منسوخ کرنے کا مطالبہ

سوال و جواب کے نشست کے دوران مظہر جمیل نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ ایٹمی سپلائرز گروپ (این ایس جی) کی جانب سے 2008 میں بھارت کو دی گئی اس استثنیٰ کی چھوٹ پر نظرِ ثانی کرے جس کے تحت این پی ٹی کا دستخط کنندہ نہ ہونے کے باوجود اسے شہری ایٹمی تجارت کی اجازت دی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ اس رعایت اور ٹیکنالوجی پارٹنرز کی معاونت نے بھارت کو اپنے ایٹمی و میزائل پروگرام کو تیز تر پھیلانے میں مدد دی، جس سے ہتھیاروں کے کنٹرول اور شفافیت پر سوالات اٹھے ہیں۔ بھارتی غیر ذمہ دارانہ رویے کے پیشِ نظر وقت آ گیا ہے کہ دنیا اس این ایس جی چھوٹ کو فوری طور پر منسوخ کرے۔

مئی 2025 کا معرکہ اور سیکیورٹی حالات 

واضح رہے کہ یہ انکشافات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مئی 2025 میں پاک بھارت افواج کے درمیان 2 سے زیادہ دہائیوں کا سب سے شدید عسکری ٹکراؤ ہوا تھا۔

اس 4 روزہ تنازع کی شروعات 22 اپریل 2025 کو بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں ایک حملے کے بعد ہوئی جس میں 26 سیاح ہلاک ہوئے تھے۔

بھارت نے بغیر ثبوت پاکستان پر الزام تراشی کی جبکہ پاکستان نے غیر جانبدارانہ عالمی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ تاہم بھارت نے 7 مئی کو پاکستانی اور آزاد کشمیر کی حدود میں سٹرائیکس کیں جس کا پاکستان نے بھرپور جواب دیا۔

مزید پڑھیں:عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اہم قرارداد منظور

امریکی سفارتی مداخلت کے بعد 10 مئی کو بندی کا اعلان ہوا، تاہم اس دوران میزائلوں، ڈرونز اور فضائی حملوں کا تبادلہ ہوا جو مئی 1998 کے ایٹمی دھماکوں کے بعد کی شدید ترین کشیدگی تھی۔

بحرانوں میں تیزی اور مستقبل کے مذاکرات کا امکان

مظہر جمیل نے خبردار کیا کہ مئی 2025 کے واقعات نے عسکری اقدام اور تنازع بڑھنے کے درمیان کا فاصلہ انتہائی کم کر دیا ہے۔

انہوں نے جنوب ایشیائی کشیدگی کو ’سیڑھی‘ کے بجائے ’لفٹ‘ سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ کا کوئی بھی ٹکراؤ پہلے سے کہیں زیادہ تیز رفتاری سے آگے بڑھے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی روایتی اور ایٹمی صلاحیتوں کے ساتھ ’کوئڈ پرو کو پلس‘ (جیسے کو تیسا پلس) کی حکمت عملی جاری رکھے گا۔

انہوں نے اپریل 2025 کے بعد بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کے اقدام کی بھی شدید مذمت کی۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست کی حیثیت سے مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات کے حل کے لیے سیاسی مذاکرات، دوطرفہ کرائسز مینجمنٹ میکانزم کی تشکیل اور عالمی ثالثی کے لیے مکمل تیار ہے۔

جنوب ایشیائی خطے میں ایٹمی خطرہ

جنوب ایشیائی خطے میں ایٹمی عدم پھیلاؤ اور طاقت کا توازن ایک بار پھر انتہائی نازک موڑ پر آن پہنچا ہے۔ جب سے بھارت نے اپنی بحری ایٹمی صلاحیت کو بحر ہند میں سرگرم کیا ہے اور آبدوزوں پر مبنی ہتھیاروں کی تعنیاتی شروع کی ہے، تب سے خطے میں ردِعمل کے وقت کا دورانیہ سیکنڈوں میں سمٹ گیا ہے۔

روایتی طور پر ’پہلے ایٹمی ہتھیار استعمال نہ کرنے‘ (این ایف یو) کا دعویٰ کرنے والا بھارت اگر سمندری گشت کے دوران ایٹمی وار ہیڈز کو میزائلوں کے ساتھ منسلک کر رہا ہے، تو یہ دفاعی پالیسی سے جارحانہ ’فرسٹ سٹرائیک‘ یعنی پہلے حملے کی صلاحیت کی طرف پیش قدمی شمار ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:عالمی ایٹمی دوڑ ، پاکستان کا طاقت کے مقابلے میں ’فل سپیکٹرم ڈیٹرنس‘ جاری رکھنے کا اعلان

مئی 2025 کی جنگ نے یہ ثابت کر دیا تھا کہ محدود جنگ کا نظریہ کسی بھی وقت قابو سے باہر ہو کر تباہ کن جنگ میں بدل سکتا ہے۔

ایٹمی سپلائرز گروپ کا بھارت کے لیے معافی نامہ اور دہرے معیار پر مبنی پالیسیوں نے واقعی خطے میں خطرات بڑھائے ہیں، جس کا واحد حل یہ ہے کہ دونوں ممالک ایک مستقل کرائسز مینجمنٹ فریم ورک پر متفق ہوں تاکہ کسی بھی ناگہانی حادثے یا غلط فہمی سے بچا جا سکے۔

Related Articles