اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی فرسٹ کمیٹی میں پاکستان کے مستقل مندوب طاہر اندراپی نے عالمی تنازعات، جنوبی ایشیائی صورتحال اور پاکستان کی جامع دفاعی پالیسی پر تفصیلی پالیسی بیان جاری کر دیا ہے۔
کمیٹی کے چیئرمین اور بیورو کے ارکان کو انتخاب پر مبارکباد دیتے ہوئے سفیر طاہر اندراپی نے کہا کہ ہم ایک ایسے سال میں مل رہے ہیں جہاں جنگیں پھیل چکی ہیں، بین الاقوامی قانون پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے اور خود ضبطی کے اصول کو ترک کر دیا گیا ہے۔
عالمی ملٹری اخراجات مسلسل 11ویں سال بڑھ چکے ہیں اور ہتھیاروں کی دوڑ مجبوری کے بجائے ایک معمول بن چکی ہے۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ میں فوری کشیدگی کے خاتمے، بحری گزرگاہوں کی بحالی اور تمام ریاستوں کی خودمختاری کے احترام کی اپیل کی۔
غزة میں قائم نازک جنگ بندی کو قائم رکھنے پر زور دیتے ہوئے انہوں نے 1967ء کی سرحدوں پر مبنی، القدس الشریف دارالحکومت والی مستقل فلسطینی ریاست کی تشکیل کو ناگزیر قرار دیا۔ مزید برآں، 4 سال سے جاری روس یوکرین تنازع پر بات کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ اس جنگ کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں ہے۔
اسلام آباد یادداشتِ تحریر اور مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ
عالمی ابتری کے جواب میں پاکستان نے مذاکرات اور سفارت کاری پر مسلسل سرمایہ کاری کی ہے۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل کے لیے قرار داد 2788 پیش کر کے منظور کرائی۔
انہی بنیادوں پر عمل کرتے ہوئے پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان کامیاب ثالثی کا کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں جنگ بندی اور ’اسلام آباد یادداشتِ تحریر‘ کا تاریخی معاہدہ طے پایا۔
اسی طرح، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا ’مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ‘ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ایک دفاعی اور علاقائی امن و سلامتی کا اہم اقدام ہے۔
جنوبی ایشیا، بھارتی جارحیت اور دفاعی عزم
جنوبی ایشیائی خطے کا احاطہ کرتے ہوئے سفیر نے کہا کہ مئی 2025ء میں بھارت نے پاکستان کے خلاف بلا اشتعال فوجی حملے کی حماقت کی، جس کا پاکستان نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت انتہائی نپا تلا، درست اور مؤثر جواب دیا۔
تاہم بھارت نے اس جارحیت کو اپنی سرکاری پالیسی بنانے کی کوشش کی ہے اور وہ 2012ء کے بعد سے ایٹمی و روایتی اعتماد سازی کے مذاکرات سے بھاگ رہا ہے۔
بھارت نے 240 ملین (24 کروڑ) آبادی کا پانی روک کر انڈس واٹرز ٹریٹی کو یکطرفہ طور پر معطل کیا ہے، جسے دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایٹمی چھتری تلے محدود روایتی جنگ کا تصور ایک خطرناک خام خیالی ہے۔ پاکستان ایٹمی دوڑ میں شامل نہیں ہونا چاہتا لیکن وہ ’کریڈیبل منیمم ڈیٹرنس‘ کے تحت ’فل سپیکٹرم ڈیٹرنس‘ برقرار رکھے گا۔
پاکستان ’سٹریٹجک ریسٹرینٹ ریجیم‘ اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کونسل کی قرار دادوں کے مطابق جامع مذاکرات کے لیے اب بھی تیار ہے۔
جدید تکنیکی چیلنجز، خلائی ہتھیار اور ایٹمی اصلاحات
عالمی سطح پر ایٹمی ہتھیاروں کی جدید کاری، خلائی شعبے کی عسکریت پسندی اور غیر ملکی کنٹرول کے بغیر مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔
انہوں نے زور دیا کہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کا حتمی فیصلہ ہر صورت انسانی ہاتھوں میں ہی رہنا چاہیے۔ عدم پھیلاؤ کے حوالے سے پاکستان نے اپنے قومی کنٹرول لسٹ کو اکتوبر 2025ء میں ریوائز کر کے نیوکلیئر سپلائرز گروپ، میزائل ٹیکنالوجی کنٹرول ریجیم اور آسٹریلیا گروپ کے مطابق بنایا ہے، جبکہ بائیولوجیکل اینڈ ٹاکسن ویپنز کنونشن ایکٹ کو نافذ کر کے بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کیا ہے۔
جنوبی ایشیا میں مئی 2025ء کے عسکری تصادم اور بھارت کی جانب سے 2012ء کے بعد سے قائم سفارتی تعطل کے باعث خطے میں سٹریٹجک توازن شدید دباؤ کا شکار ہوا ہے۔
تاریخی طور پر پاکستان نے خطے میں ایٹمی عدم پھیلاؤ اور سٹریٹجک استحکام کے لیے مسلسل تجاویز پیش کی ہیں، جن میں ‘سٹریٹجک ریسٹرینٹ ریجیم’ کا قیام سرِ فہرست ہے۔
دوسری جانب، سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کی کوششوں نے 24 کروڑ عوام کے آبی و معاشی تحفظ کو درپیش خطرات کو بڑھا دیا ہے، جس کے پیشِ نظر بین الاقوامی فورمز پر آواز اٹھانا پاکستان کی سٹریٹجک ضرورت بن چکا ہے۔
اقوام متحدہ میں پیش کیا گیا یہ پالیسی بیان عالمی سفارت کاری میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے فعال کردار اور دفاعی شفافیت کا عکاس ہے۔
جہاں پاکستان نے ایران اور امریکا جیسے تنازعات میں ثالث بن کر ’اسلام آباد یادداشتِ تحریر‘ کا موقع فراہم کیا، وہاں اپنے سٹریٹجک دفاع پر کسی بھی قسم کے سمجھوتے کو مسترد کر دیا ہے۔
مئی 2025ء کے واقعات کے بعد ’فل سپیکٹرم ڈیٹرنس‘ کا اعادہ بھارت کے ‘نئے معمول’ کے بیانیے کو مؤثر طریقے سے رد کرتا ہے۔ عالمی برادری کے سامنے مصنوعی ذہانت کے خطرناک عسکری استعمال اور خلائی ہتھیاروں پر واضح موقف اپنانا، پاکستان کو عالمی سلامتی کے مکالمے میں ایک ذمہ دار اور سنجیدہ ایٹمی ریاست کے طور پر برقرار رکھتا ہے۔