پی ٹی آئی میں اختلافات شدت اختیار کرگئے، کور کمیٹی اجلاس میں رہنما ایک دوسرے پر برس پڑے،اندرونی کہانی سامنے آ گئی

پی ٹی آئی میں اختلافات شدت اختیار کرگئے، کور کمیٹی اجلاس میں رہنما ایک دوسرے پر برس پڑے،اندرونی کہانی سامنے آ گئی

اسلام آباد لانگ مارچ کے بے نتیجہ اختتام اور خیبرپختونخوا حکومت کے خاتمے کے بعد پاکستان تحریک انصاف میں اندرونی اختلافات شدت اختیار کرنے کے دعوے سامنے آئے ہیں۔ پارٹی کے کور کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں رہنماؤں کی جانب سے لانگ مارچ کی حکمت عملی، قیادت کے کردار اور سیاسی کمیٹی کے قیام پر تحفظات کا اظہار کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں خیبرپختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے لانگ مارچ سے قبل 20 لاکھ افراد کو اسلام آباد لانے اور مطالبات منوانے کے دعوؤں پر سوالات اٹھائے گئے۔ بعض رہنماؤں نے مارچ کی ناکامی کا ذمہ دار سہیل آفریدی کو قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ احتجاج کے لیے واضح اور مؤثر حکمت عملی سامنے نہیں لائی گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس کے دوران سہیل آفریدی کے سیاسی کردار اور لانگ مارچ کی تیاریوں پر بھی تنقید کی گئی۔ تاہم ان مبینہ تبصروں کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

اجلاس میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے کردار پر بھی تحفظات کا اظہار کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ اسی طرح سلمان اکرم راجہ کی جانب سے تشکیل دی گئی سیاسی کمیٹی کے قیام اور اس کے طریقہ کار پر بھی بعض رہنماؤں نے سوالات اٹھائے۔

پارٹی ذرائع کے مطابق لانگ مارچ کے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونے اور صوبائی حکومت کے خاتمے کے بعد تحریک انصاف کے اندر مختلف سیاسی حکمت عملیوں پر اختلافات نمایاں ہوئے ہیں۔ بعض رہنما احتجاجی سیاست کے طریقہ کار پر نظرثانی کے حامی ہیں، جبکہ دیگر قیادت کے فیصلوں اور تنظیمی امور پر تحفظات رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:لاہور میں بسنت میلہ کب سجے گا ، نئی تاریخوں کا اعلان کر دیا گیا،پنجاب کابینہ نے بسنت کی نئی تاریخوں کی منظوری دے دی

سیاسی مبصرین کے نزدیک کسی بھی جماعت کے لیے مشکل سیاسی حالات میں تنظیمی اتحاد اور آئندہ کی حکمت عملی پر اتفاق اہم ہوتا ہے۔ تاہم پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کے اجلاس میں ہونے والی مبینہ تلخ کلامی اور اختلافات کی نوعیت کے بارے میں پارٹی کا باضابطہ مؤقف سامنے آنے سے صورت حال مزید واضح ہوسکتی ہے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles