فضل الرحمان کو آخر ڈیزل کیوں کہا جاتا ہے ، کس نے اور کیوں یہ نام دیا؟ حقائق سامنے آگئے

فضل الرحمان کو آخر ڈیزل کیوں کہا جاتا ہے ، کس  نے اور کیوں یہ نام دیا؟ حقائق سامنے آگئے

پاکستان کی سیاست جتنی سنجیدہ ہے، اتنی ہی دلچسپ بھی ہے کیونکہ یہاں سیاستدانوں کے درمیان نوک جھونک، طعنے اور القابات تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں لیکن جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ فضل الرحمٰن کے ساتھ جو نام جڑا  یعنی ”ڈیزل“  اس کا مقابلہ شاید ہی پاکستانی سیاست کا کوئی دوسرا لقب کرسکتا ہے ۔

گلی محلوں  کے بچوں سے لے کر سوشل میڈیا کے میمرز تک، ہر کوئی اس نام سے واقف ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ دلچسپ نام مولانا کو کس نے اور کیوں دیا؟ آئیے اس سیاسی فلم کی پوری کہانی آپ کو بتاتے ہیں ۔

 آغاز کچھ  یوں ہوا ،  شیخ رشید اور 90ء کی دہائی 

یہ بات ہے 1990ء کی دہائی کی (جب پاکستان میں بینظیر بھٹو کا دوسرا دور حکومت تھا) اس دور میں  فضل الرحمٰن حکومت کے بڑے پکے اتحادی بنے ہوئے تھے اور وزارتوں کے خوب مزے لوٹ رہے تھے ،  دوسری جانب سیاست کے سب سے بڑے “شو مین” یعنی راولپنڈی کے  شیخ رشید احمد، جو اس وقت اپوزیشن کی صفوں میں بیٹھ کر حکومت پر لفظی گولہ باری  کر رہے تھے۔

شیخ رشید اپنی حاضر دماغی اور طنز کے لیے مشہور ہیں اور سگار  کے دھوئیں کے ساتھ فقرے چھوڑنا ان کا پرانا شوق ہے  بس پھر شیخ صاحب نے مولانا کو گھیرنے کے لیے ایک ایسا چٹکلہ چھوڑا جو آج زبان زدوعام ہے ۔

ڈیزل کے پرمٹ کا الزام یا حقیقت؟

شیخ رشید کا دعویٰ تھا کہ فضل الرحمٰن نے حکومت میں شامل ہونے کی جو “قیمت” وصول کی ہے، وہ کوئی عام چیز نہیں بلکہ ڈیزل اور آئل کے تجارتی پرمٹس ہیں ، اپوزیشن کا موقف تھا کہ مولانا صاحب کو وزارتِ عظمیٰ کے اتحادی بننے کے صلے میں سرکاری طور پر ڈیزل کے پرمٹس ملے، جو انہوں نے آگے مہنگے داموں فروخت کر کے لاکھوں اور کروڑوں روپے کمائے۔

بس! شیخ رشید نے قومی اسمبلی کے فلور سے لے کر ٹی وی شوز تک مولانا فضل الرحمٰن کو ”ڈیزل“ اور ”پرمٹ والے مولوی صاحب“ کے نام سے پکارنا شروع کر دیا یہ نام ایسا چپکا کہ پھر اترنے کا نام نہیں لیا ۔

سیاسی جلسوں سے سوشل میڈیا تک کا سفر

یہ لقب سب سے پہلے ن لیگ کے رہنماؤں اور شیخ رشید کی جانب سے سیاسی تقریروں میں طنز کے طور پر استعمال کیا گیا بعد ازاں 2011ء کے بعد پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان نے اپنے جلسوں میں اس لفظ کا کثرت سے استعمال کیا، جس کے بعد یہ نام نہ صرف میڈیا بلکہ سوشل میڈیا اور عوامی سطح پر بھی فضل الرحمٰن کی شناختی علامت کے طور پر پیش کیا جانے لگا.

تحقیقات اور عدالتی صورتحال

صحافتی اور قانونی جائزوں کے مطابق اس حوالے سے عوام میں ایک بڑا مغالطہ یہ بھی پایا جاتا ہے کہ فضل الرحمٰن کبھی ملک کے وزیر پیٹرولیم رہے ہیں، جبکہ وہ کبھی اس عہدے پر نہیں رہے۔ اس کے علاوہ، دہائیوں سے عائد اس الزام کو کسی بھی عدالت یا نيشنل اکاؤنٹیبلٹی بیورو (نیب) جیسے تحقیقاتی ادارے میں ثابت نہیں کیا جا سکا، اور نہ ہی اس کا کوئی تحریری یا قانونی ثبوت سامنے لایا جا سکا ہے۔

جمیعت علمائے اسلام کا موقف

دوسری طرف فضل الرحمٰن اور ان کے پارٹی ورکرز اس نام پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہیں ، خود فضل الرحمٰن اور ان کی جماعت نے ہمیشہ ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ ان کا موقف رہا ہے کہ یہ محض سیاسی حریفوں کی طرف سے کی جانے والی کردار کشی کی ایک مہم ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے ، یہ اور بات ہے کہ  آجکل مولانا اور ان کے خاندان کے کرپشن کے کچھے چھٹے کھل کر سامنے آگئے ہیں ۔

مزید پڑھیں:سیاسی یتیمی اور اقتدار کی ہوس نے فضل الرحمن کو بوکھلاہٹ میں مبتلا کر دیا، پاک افواج کیخلاف ہرزہ سرائی برداشت نہیں ! سرگودھا کے شہریوں کا شدید ردِعمل

آج صورتحال یہ ہے کہ مخالفین تو کیا، عام لوگ بھی بھول چکے ہوں گے کہ اصل ایشو کیا تھا، لیکن ”ڈیزل“ کا یہ ٹائٹل فضل الرحمٰن کے ساتھ ایک پرانی یادگار کی طرح جڑ چکا ہے۔ سیاست بھی عجیب کھیل ہے  یہاں بندہ دین کی بات کرے یا سیاست کی، مخالفین اس کے نام کے ساتھ کوئی نہ کوئی ایسی “تیلی ” لگا ہی دیتے ہیں کہ انسان پوری زندگی جلتا رہتا ہے۔

editor

Related Articles