پیسے دو،بیانیہ لو، پی ٹی آئی کے یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا نیٹ ورک کا کھیل بے نقاب

پیسے دو،بیانیہ لو، پی ٹی آئی کے یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا نیٹ ورک کا کھیل بے نقاب

پاکستان تحریک انصاف کے سوشل میڈیا بیانیے اور یوٹیوبرز کے ساتھ مالی معاملات سے متعلق ایک نیا تنازع سامنے آگیا ہے۔ پی ٹی آئی کی سینیٹر مشعال یوسفزئی کے بیان  نے اس بحث کو جنم دیا ہے کہ پارٹی کے حق میں بیانیہ تیار کرنے کے لیے یوٹیوبرز کی خدمات حاصل کی جاتی تھیں اور اس کے عوض ادائیگیاں کی جاتی تھیں۔

مشعال یوسفزئی کے حوالے سے سامنے آنے والے بیان میں کہا گیا کہ صدیق جان صحافی نہیں ہیں اور پی ٹی آئی انہیں پیسے دے کر بیانیہ بنواتی تھی۔ اس بیان نے پارٹی کے سوشل میڈیا نیٹ ورک، سیاسی تشہیر اور بیانیہ سازی کے طریقہ کار پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

آزادی کا نعرہ، بیانیہ سازی کے لیے ادائیگیاں؟

اس معاملے کے بعد یہ سوال زیرِ بحث ہے کہ پی ٹی آئی کے حق میں سوشل میڈیا پر پیش کیے جانے والے سیاسی مؤقف کس حد تک آزادانہ صحافتی رائے تھے اور کن معاملات میں پارٹی کی جانب سے مالی معاونت کے ذریعے تشہیری سرگرمیاں کی جاتی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں :شفیق جان نے بیرون ملک بیٹھے پی ٹی آئی یوٹیوبرز کو آڑے ہاتھوں لے لیا

سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ اگر سیاسی بیانیہ تیار کرنے کے لیے یوٹیوبرز کو ادائیگیاں کی جاتی رہی ہیں تو اس عمل کی نوعیت، مالی وسائل کے ذرائع اور ان ادائیگیوں کے مقاصد سامنے آنا ضروری ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی تشہیری سرگرمیاں اپنی جگہ، لیکن صحافت اور سیاسی تشہیر کے درمیان واضح فرق برقرار رکھنا عوام کے حقِ معلومات کے لیے اہم ہے۔

13 سالہ حکمرانی اور عوامی وسائل کا سوال

خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی طویل حکمرانی کے تناظر میں اس معاملے نے سرکاری وسائل کے استعمال سے متعلق بحث کو بھی اہم بنا دیا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا پارٹی کے سوشل میڈیا نیٹ ورک یا بیرونِ ملک مقیم حامیوں کی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے والی رقوم کا صوبائی وسائل سے کوئی تعلق تھا یا نہیں۔

سوشل میڈیا بیانیے کی شفافیت کا معاملہ

 اگر ادائیگیوں کے شواہد، معاہدے یا مالی ریکارڈ دستیاب ہوں تو ان کی جانچ سے یہ طے کرنے میں مدد ملے گی کہ ادائیگیاں کس نے کیں، کس مقصد کے لیے کیں اور آیا ان کا تعلق پارٹی فنڈز سے تھا یا کسی دوسرے ذریعے سے تاہم سوشل میڈیا صارفین اس حوالے سے کہہ رہے ہیں کے پی کے کے عوام کے پیسوں سے بیانیے بنائے جاتے تھے اور اس کے لیے باقاعدہ فنڈ مختص تھا ۔

سیاسی جماعتوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے تشہیری اخراجات اور مالی معاملات کے بارے میں شفافیت برقرار رکھیں۔ دوسری جانب صحافیوں اور ڈیجیٹل مواد تخلیق کرنے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ حیثیت، مالی مفادات اور سیاسی وابستگیوں کے بارے میں ناظرین کو گمراہ نہ کریں۔

یہ معاملہ اب صرف ایک یوٹیوبر یا سیاسی جماعت تک محدود نہیں رہا، بلکہ سیاسی بیانیہ سازی، صحافتی آزادی اور عوامی وسائل کے استعمال سے متعلق بنیادی سوالات کو سامنے لے آیا ہے۔ ان سوالات کے حتمی جواب کے لیے اصل بیان اور متعلقہ مالی شواہد کی جانچ اہم ہوگی۔

editor

Related Articles