پاکستان تحریک انصاف نے سینیٹر مشعال یوسفزئی کو پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر شوکاز نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے،مشعال یوسفزئی کے بیان کے بعد پارٹی قیادت نے ان سے وضاحت طلب کرنے کا فیصلہ کیا، جس میں انہوں نے سینئر قیادت اور ایک یوٹیوبر سے متعلق گفتگو کی تھی۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے مشعال یوسفزئی کو پہلے بھی دو سے تین مرتبہ پارٹی ڈسپلن کا خیال رکھنے کی ہدایت کی تھی، تاہم گزشتہ روز پارٹی کی سینئر قیادت کے حوالے سے دیے گئے بیان میں پارٹی اصولوں کی خلاف ورزی کی گئی،بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایڈیشنل سیکرٹری جنرل فردوس شمیم نقوی کو ہدایت کی ہے کہ مشعال یوسفزئی کو شوکاز نوٹس جاری کرکے ان سے وضاحت طلب کی جائے۔
یوٹیوبر سے متعلق بیان پر تنازع
مشعال یوسفزئی کا بیان ایسے وقت سامنے آیا جب انہوں نے ایک یوٹیوبر کی صحافتی حیثیت اور پی ٹی آئی کے لیے بیانیہ سازی کے حوالے سے گفتگو کی انہوں نے کہا کہ متعلقہ یوٹیوبر صحافی نہیں اور پارٹی اس سے بیانیہ تیار کروانے کے لیے ادائیگی کرتی تھی۔
پارٹی ڈسپلن یا اختلافِ رائے
بیرسٹر گوہر کے اعلان کے بعد مشعال یوسفزئی کو نوٹس بھیجنے کا معاملہ پارٹی کے اندر اظہارِ رائے اور تنظیمی نظم و ضبط سے متعلق بحث کا موضوع بن گیا ہے شوکاز نوٹس کا مقصد ان سے وضاحت طلب کرنا ہے۔
اس مرحلے پر اسے کسی حتمی تادیبی کارروائی کے مترادف قرار نہیں دیا جا سکتا،اب توجہ اس بات پر ہوگی کہ مشعال یوسفزئی اپنے بیان کے حوالے سے کیا وضاحت پیش کرتی ہیں اور پارٹی قیادت ان کے جواب کی روشنی میں کیا فیصلہ کرتی ہے۔
