ملتان میں بچے وسیم عباس کو گاڑی سے کچل کر قتل کرنے کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پولیس نے ملزم توقیر کا ڈی این اے ٹیسٹ کروا لیا ہے۔ واقعے میں زیادتی کا شبہ سامنے آنے کے بعد یہ اقدام کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق ملزم کا ڈی این اے سیمپل نشترہسپتال میں حاصل کیا گیا، جس کی رپورٹ کا انتظار ہے۔ رپورٹ سامنے آنے کے بعد واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا اور تفتیش کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ڈی این اے رپورٹ کی روشنی میں مقدمے میں مزید دفعات شامل کرنے کا فیصلہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ فی الحال زیادتی کے شبے کی تصدیق نہیں ہوئی اور حتمی صورت حال رپورٹ آنے کے بعد ہی واضح ہوگی،پولیس کے مطابق کیس کی تفتیش جاری ہے اور ڈی این اے رپورٹ آئندہ کارروائی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
یاد رہے کہ گزشتہ روزپاکستان کے شہر ملتان میں 15 سالہ وسیم عباس کی گاڑی کی ٹکر سے ہلاکت کے واقعے میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ مقدمے میں دو افراد کو نامزد کیا گیا ہے، جن میں سے ایک ملزم توقیر نذیر کو پولیس نے گرفتار کر لیا، جبکہ دوسرا ملزم فرار ہے۔
یہ واقعہ 19 اکتوبر کو ملتان کی ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں پیش آیا، جہاں وسیم عباس ایک زیرِ تعمیر گھر میں الیکٹریشن کا کام سیکھ رہا تھا۔ وہ نویں جماعت کا طالب علم تھا اور ایک یتیم خانے میں رہتا تھا۔
سی سی ٹی وی میں کیا نظر آیا؟
واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وسیم عباس ایک گاڑی کو اپنی جانب آتے دیکھ کر بھاگنے لگتا ہے، لیکن گاڑی اس کا تعاقب کرتی ہے اور اسے ٹکر مار دیتی ہے۔ ٹکر کے نتیجے میں وہ اچھل کر قریبی گھر کے گیٹ سے جا ٹکراتا ہے اور شدید زخمی ہونے کے بعد موقع پر ہی دم توڑ دیتا ہے۔
واقعے کے بعد گاڑی چلانے والے شخص نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ لڑکے کو روکنے کی کوشش کر رہا تھا اور گاڑی بے قابو ہوگئی تھی۔ تاہم ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا ہے کہ ملزمان نے وسیم کو جان سے مارنے کی نیت سے گاڑی اس پر چڑھائی۔
کام سے بھاگنے پر تعاقب کیا گیا؟
یتیم خانے سے منسلک شعیب جوئیہ کے مطابق وسیم عباس کا تعلق ضلع مظفرگڑھ سے تھا۔ اسے تعلیم کے ساتھ ہنر سکھانے کے مقصد سے ٹھیکیدار توقیر نذیر کے پاس بھیجا گیا تھا، جہاں وہ الیکٹریشن کا کام سیکھ رہا تھا۔ پولیس کے مطابق واقعے سے تقریباً سات روز قبل اسے کام پر بھیجا گیا تھا۔
مقامی ذرائع کے مطابق وسیم کا کام میں دل نہیں لگتا تھا اور وہ اکثر وہاں سے بھاگ جاتا تھا۔ اس مرتبہ بھی وہ کام کی جگہ سے نکلا تو ٹھیکیدار نے اس کا پیچھا کیاوسیم کے کزن ندیم نے بھی بتایا کہ وہ کام پر جانے سے ہچکچاتا تھا اور بارہا کہتا تھا کہ وہ الیکٹریشن کا کام نہیں کرنا چاہتا بلکہ واپس گھر جانا چاہتا ہے۔
ایف آئی آر میں تشدد اور دھمکیوں کا ذکر
تھانہ ڈی ایچ اے ملتان میں درج مقدمے کے مطابق، پولیس کو اطلاع دینے والے شخص نے بتایا کہ وسیم اس کا ماموں زاد بھائی تھا اور اسے کام سیکھنے کے دوران تشدد کا سامنا تھا۔ ایف آئی آر میں یہ الزام بھی شامل ہے کہ اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جاتی تھیں۔
مقدمے کے مطابق وسیم اپنی جان بچانے کے لیے بھاگا اور ساتھ والی گلی میں پہنچا تو ملزمان نے تیز رفتار گاڑی سے اس کا تعاقب کیا اور اسے ٹکر مار دی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جب اہلکار موقع پر پہنچے تو ملزمان گاڑی لے کر فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے، تاہم گاڑی اسٹارٹ نہ ہونے پر پولیس نے ڈرائیور توقیر نذیر کو گرفتار کر لیا۔
والد کے انتقال کے بعد یتیم خانے میں رہائش
شعیب جوئیہ کے مطابق وسیم کے والد کا انتقال اس وقت ہوگیا تھا جب وہ بہت کم عمر تھا۔ اس کی والدہ نے تقریباً پانچ سال بیوہ رہنے کے بعد وسیم کے چھوٹے چچا سے شادی کرلی، جس کے بعد اس کے نانا نے اسے یتیم خانے میں داخل کروا دیا۔
وسیم کو تعلیم کے ساتھ ہنر سیکھنے کے لیے کام پر بھیجا گیا تھا، لیکن اس کی موت نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ مقدمے میں لگائے گئے الزامات کی حقیقت اور واقعے کے تمام پہلوؤں کا تعین پولیس کی تفتیش اور دستیاب شواہد کی روشنی میں ہوگا۔