حکومت نے موسم سرما میں گیس کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کے لیے نومبر سے فروری تک درآمدی ایل این جی کے 18 کارگوز خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں قطر سے کم قیمت پر ایل این جی حاصل کرنے کو ترجیح دی جائے گی، تاہم وہاں سے فراہمی شروع نہ ہونے کی صورت میں فوری ضرورت پوری کرنے کے لیے اسپاٹ مارکیٹ سے کارگوز خریدے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق سردیوں کے دوران گیس کی طلب اور دستیابی کے معاملے پر وزیراعظم شہباز شریف کو بریفنگ بھی دی گئی ہے، جس میں مقامی گیس کی مجموعی فراہمی اور بڑھتی ہوئی ضروریات سے متعلق صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔
دستیاب معلومات کے مطابق موسم سرما میں ملک میں مقامی گیس کی مجموعی دستیابی ایک ارب 40 کروڑ مکعب فٹ تک رہنے کا امکان ہے، جبکہ صرف پنجاب میں گیس کی ضرورت ایک ارب مکعب فٹ تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سردیوں کے دوران مقامی گیس گھریلو صارفین کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی ناکافی ثابت ہوسکتی ہے۔ اسی صورت حال کے پیش نظر حکومت نے درآمدی ایل این جی کے 18 کارگوز حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ نومبر سے فروری کے دوران گیس کی طلب پوری کرنے کے لیے اضافی فراہمی کا انتظام کیا جاسکے۔
حکومتی حکمت عملی کے تحت قطر سے سستی ایل این جی کی درآمد کو پہلی ترجیح دی جائے گی۔ اگر وہاں سے سپلائی شروع نہ ہوسکی تو گیس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اسپاٹ مارکیٹ سے کارگوز خریدے جائیں گے۔
موسم سرما میں گیس کی طلب اور مقامی دستیابی کے درمیان متوقع فرق کے باعث درآمدی گیس کی فراہمی کو اہم قرار دیا جارہا ہے۔ حکومت کا فیصلہ سردیوں کے چار ماہ کے دوران گیس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اضافی انتظامات کی کوششوں کا حصہ ہے۔