وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد بہتر سمجھا گیا تو پی ٹی آئی رہنماؤں کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 2 سال قبل تحریک انصاف پر پابندی کے اصولی فیصلے کی بات کی تھی، تاہم اب صورتحال تبدیل ہوچکی ہے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ تحریک انصاف پارلیمان میں بحیثیت جماعت موجود نہیں اور دہشت گردی میں سہولت کاری کے باعث خیبر پختونخوا کی حکومت بھی کھو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب مرے ہوئے کو کیا مارنا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر تحریک انصاف خود کو اصولی جماعت سمجھتی ہے تو اس کے سابق اراکین پارلیمنٹ کو بلیو پاسپورٹ لینے سے انکار کردینا چاہیے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی دہشت گردی کے معاملے پر مذاکرات نہیں کرتی، لیکن بلیو پاسپورٹ اور دیگر مراعات پر بات کرلیتی ہے۔
عطا تارڑ نے تحریک انصاف کے مارچ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مارچ جن علاقوں سے گزرا، وہاں مقامی لوگ دہشت گردوں سے محفوظ نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ مارچ کے شرکا ان علاقوں سے بغیر کسی خوف کے گزرے، اس لیے کوئی نہ کوئی رابطہ ضرور ہوگا۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ کوہاٹ جانے سے پہلے انہیں وہاں کے ایک مقامی شخص کا پیغام موصول ہوا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر وہ کوہاٹ آئے تو ان کے ساتھ بھی ایسے واقعات پیش آسکتے ہیں۔ عطا تارڑ کے مطابق انہوں نے جواب دیا کہ وہ پولیس کے شہید اہلکار کے گھر جانے کا ارادہ رکھتے ہیں، چنانچہ وہ وہاں گئے۔
انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد متعلقہ افراد کو حفاظتی تحویل میں لینا بہتر سمجھا گیا۔