امریکا کا مڈ ٹرم انتخابات سے قبل ایران پرحملے سے متعلق بڑا اعلان

امریکا کا مڈ ٹرم انتخابات سے قبل ایران پرحملے سے متعلق بڑا اعلان

امریکا نے نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملے کا کوئی منصوبہ نہ ہونے کا بیان دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی نائب پریس سیکرٹری اینا کیلی نے اس معاملے پر امریکی انتظامیہ کا مؤقف پیش کیا ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے خلاف امریکی حکمت عملی، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور اسرائیلی قیادت کے بیانات پر توجہ مرکوز ہے۔ امریکی عہدیدار کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کرے گی۔

 یہ بھی پڑھیں :ایران امریکہ جنگ ،عالمی تیل مارکیٹ میں نیا بحران،ترسیل کا نظام دبائو کا شکار

اینا کیلی نے یہ بیان اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے اس دعوے سے متعلق سوال کے جواب میں دیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ٹرمپ ایرانی قیادت کو ختم کرنے کے منصوبے کی حمایت کرتے ہیں۔

ناکہ بندی برقرار رکھنے کا اعلان

اینا کیلی نے کہا کہ ایران معاشی اور فوجی دونوں اعتبار سے انتہائی خراب حالت میں ہے، آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی پوری شدت سے برقرار رہے گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل ریکارڈ مقدار میں جاری رہے گی۔ تاہم ان کے بیان میں اس ترسیل کے حجم یا متعلقہ مدت کے اعدادوشمار فراہم نہیں کیے گئے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل بھی وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہ کرنے کا اعلان کرچکے ہیں۔ 8 اکتوبر کو انہوں نے کہا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت جاری ہے اور انتخابات سے پہلے حملہ نہیں کیا جائے گا۔

 اس اعلان کے باوجود ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ ایران کے ساتھ مذاکرات، سمندری ناکہ بندی اور آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل خطے کی صورتحال کے اہم پہلو ہیں۔

ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو وسط مدتی انتخابات سے پہلے عوامی حمایت کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے۔ فوکس نیوز کے تازہ سروے میں ان کی مجموعی کارکردگی کی منظوری کی شرح 36 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ سروے کے مطابق 64 فیصد افراد نے ان کی کارکردگی سے عدم اطمینان ظاہر کیا۔

 یہ بھی پڑھیں :روس اور یوکرین میں امن معاہدے کے لیے نمایاں پیش رفت ہو رہی ہے، ٹرمپ کا دعویٰ

 سروے میں مہنگائی پر قابو پانے کے حوالے سے بھی صدر ٹرمپ کی کارکردگی پر تحفظات سامنے آئے۔ 55 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ مہنگائی بالکل قابو میں نہیں ہے۔ صدر کی جانب سے مہنگائی سے نمٹنے کے طریقہ کار کو صرف 22 فیصد افراد نے منظور کیا۔
 یہ نتائج ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی ووٹرز کے لیے اخراجات اور معاشی حالات اہم انتخابی موضوعات بنے ہوئے ہیں۔ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی بھی امریکی سیاست اور خارجہ پالیسی کی بحث کا حصہ ہے۔

تاہم سروے کے نتائج بذات خود یہ ثابت نہیں کرتے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے متعلق فیصلہ صرف انتخابی مقاصد کے تحت کیا گیا ہے۔ امریکی انتظامیہ نے انتخابات سے پہلے حملہ نہ کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ ایران کے ساتھ کشیدگی اور سفارتی کوششیں بدستور جاری ہیں۔

آگے کیا ہوگا؟

امریکی اعلان کے بعد فوری توجہ ایران کے ساتھ مذاکرات اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر رہے گی۔ ناکہ بندی برقرار رکھنے کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن فوجی حملے کے بغیر بھی ایران پر دباؤ جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

دوسری جانب نومبر کے انتخابات سے پہلے امریکی صدر کو معیشت، مہنگائی اور عوامی حمایت جیسے داخلی مسائل کا سامنا ہے۔ آئندہ دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں کی پیش رفت اہم ہوگی۔

editor

Related Articles