پاکستان مخالف کہانیوں پر بالی ووڈ کو پھر تنقید کا سامنا

پاکستان مخالف کہانیوں پر بالی ووڈ کو پھر تنقید کا سامنا

بالی ووڈ دنیا کی بڑی فلمی صنعتوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں مختلف موضوعات پر فلمیں بنائی جاتی ہیں۔ تاہم، بعض بھارتی فلموں میں پاکستان کو منفی انداز میں پیش کرنے پر وقتاً فوقتاً تنقید ہوتی رہی ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ ایسی کہانیاں بھارتی فلمی صنعت میں ایک نمایاں رجحان بن چکی ہیں۔

حال ہی میں سارہ علی خان اور آیوشمان کھرانہ کی فلم ’اڑتا تیر‘ بھی اسی حوالے سے بحث کا موضوع بن گئی ہے۔ فلم کی ریلیز 23 اکتوبر کے لیے مقرر بتائی گئی ہے۔ اسے کرن جوہر، گنیت مونگا کپور، آدَر پونا والا، اپوروا مہتا اور اچن جین نے دھرما پروڈکشنز اور سکھیا انٹرٹینمنٹ کے تحت مشترکہ طور پر پروڈیوس کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ٹائیگر شروف پر حملے کے پیچھے کس اداکار کو نشانہ بنانے کا منصوبہ تھا

فلم کے موضوع اور پاکستان سے متعلق مبینہ منفی اندازِ پیشکش پر پاکستانی سوشل میڈیا صارفین نے تنقید کی ہے۔ بعض صارفین نے طنزیہ تبصرے کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فلم ساز اپنی کہانیوں میں بار بار پاکستان کا ذکر کرتے ہیں، جبکہ کچھ نے اسے فلمی کاروبار کے لیے استعمال ہونے والا فارمولا قرار دیا۔

ایک صارف نے مذاقاً لکھا کہ اگر بالی ووڈ پاکستان کا نام استعمال کرکے کمائی کرتا ہے تو پاکستان کو اس کا معاوضہ ملنا چاہیے۔ ایک اور صارف نے سوال اٹھایا کہ بھارتی فلموں میں پاکستان کا ذکر بار بار کیوں کیا جاتا ہے۔

کچھ صارفین نے یہ بھی تبصرہ کیا کہ بالی ووڈ کی فلموں میں جنگوں کو اکثر بھارتی کامیابی کے طور پر دکھایا جاتا ہے، جبکہ حقیقت اور فلمی کہانی میں فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ تاہم، سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے یہ تبصرے صارفین کی ذاتی آرا کی عکاسی کرتے ہیں۔ فلم کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنے کے لیے اس کے اصل مواد اور کہانی کو دیکھنا ضروری ہوگا۔

editor

Related Articles