جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ فضل الرحمان کے اربوں روپے کے اثاثوں کی مزید تفصیلات منظرِ عام پر آگئی ہیں جن کے بعد سربراہ جمعیت علمائے اسلام کے حوالے سے عوام میں چہ موگوئیاں اور سوالات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے کہ آخر کار ان کے پاس کوئی آلہ دین کا چراغ تو نہیں جس سے نہیں غائبانہ مدد مل رہی ہے۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ فضل الرحمان ملک کے مختلف اہم شہروں بشمول ڈیرہ اسماعیل خان، اسلام آباد، کراچی، کوئٹہ اور بیرونِ ملک دبئی میں متعدد قیمتی جائیدادوں کے مالک ہیں، اربوں، کھربوں روپے کے یہ اثاثے ان کے پاس کہاں سے آئے؟ یہ سوال ایک بار پھر اٹھ کھڑا ہوا ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کی دستاویزات اور سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ڈی آئی خان میں 2 گھر اور 5 ایکڑ زرعی اراضی، اسلام آباد کے سیکٹر ایف-8 میں ایک بنگلہ اور دبئی میں ایک اپارٹمنٹ ان کی ملکیت میں شامل ہے۔
اس کے علاوہ کراچی اور کوئٹہ میں کمرشل جائیدادیں، شورکوٹ میں ایک گھر، ایک مدرسہ اور 5 ایکڑ زمین بھی ان کے اثاثوں کا حصہ بتائی گئی ہیں۔
حالیہ عرصے میں چک شہزاد میں 3 ارب روپے مالیت کی زمین کی خرید و فروخت کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے، جبکہ عبدالخیل ڈی آئی خان میں 1.5 ملین روپے اور شورکوٹ میں 2.5 ملین روپے مالیت سمیت مجموعی طور پر 4.7 ملین روپے کی کمرشل زمین کا ذکر بھی دستاویزات میں موجود ہے۔
الیکشن کمیشن ریکارڈ
ایک طرف جس جماعت پاکستان تحریک انصاف، جس کی اس وقت فضل الرحمان حمایت کر رہے ہیں ان کے رہنماؤں کی جانب سے اربوں روپے کی جائیدادوں اور بیرونِ ملک اثاثوں کو منظر عام پر لا رہے ہیں، وہیں دوسری طرف الیکشن کمیشن اور ماضی کے سرکاری گوشواروں میں درج تفصیلات کچھ اور ہی تصویر پیش کرتی ہیں۔
فضل الرحمان کا خاصا یہ ہے کہ وہ خود کو عالم دین کہلواتے ہیں لیکن دوسری جانب انہوں نے الیکشن ریکارڈ کے مطابق جو اثاثے ظاہر کیے وہ نسبتاً محدود ذاتی اثاثے درج ہیں جن میں بینکوں میں محدود نقدی، کچھ مقدار میں سونا، شورکوٹ میں ذاتی گھر، مدرسہ، تقریباً 5 ایکڑ زرعی زمین اور چند لاکھ روپے مالیت کی کمرشل اراضی شامل ہے۔
جائیداد اللہ کی غائبانہ مدد ہے جناب، فضل الرحمان
فضل الرحمان کے اثاثوں کے حوالے سے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ریکارڈ کچھ اور ہی بتا رہا ہے، اس حوالے ذرائع آمدن سے متعلق جب بھی سوال اٹھایا گیا تو ان کی طرف سے یہ عام جواب سامنے آتا ہے کہ ذرائع آمدن ’بس اللہ کی طرف سے غائبانہ مدد‘ کی شکل میں فراہم ہوتے ہیں۔
پاکستان کی ملکی سیاست میں اہم ترین شخصیات کے اثاثوں اور ذرائع آمدن پر بحث کوئی نئی بات نہیں ہے۔ روایتی طور پر مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے اثاثوں کو لے کر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان لفظی جنگیں سیاسی کشیدگی کو بڑھاتی رہی ہیں۔
موجودہ حالات میں جب معاشی دباؤ اور سیاسی محاذ آرائی عروج پر ہے، اس قسم کے اسکینڈلز کا منظرِ عام پر آنا دونوں اطراف کے سیاسی بیانیے کو مزید جارحانہ بنا دیتا ہے۔
اس کشمکش میں اصل حقیقت قانونی اداروں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات اور شواہد کی مستند جانچ پڑتال کے بعد ہی سامنے آ سکتی ہے، تاہم فضل الرحمان کے حوالے سے فی الحال یہ موضوع قومی میڈیا اور عوامی حلقوں میں مرکزی بحث کا نقطہ بن چکا ہے۔