فضل الرحمان معدنی وسائل پر بے بنیاد خدشات پھیلانے کے بجائے مخصوص معاہدوں کی نشاندہی کریں، بیرسٹر دانیال

فضل الرحمان معدنی وسائل پر بے بنیاد خدشات پھیلانے کے بجائے مخصوص معاہدوں کی نشاندہی کریں، بیرسٹر دانیال

پارلیمانی سیکریٹری اطلاعات بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کو اپنے ماضی کے بیانات اور موجودہ سیاسی مؤقف میں تضاد پر قوم کو جواب دینا ہوگا۔

منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے پارلیمانی سیکریٹری اطلاعات بیرسٹر دانیال چوہدری نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ فضل الرحمان کی موجودہ سیاسی حکمت عملی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ قوم دہشتگردی، شہدا کی عظیم قربانیوں اور قومی سلامتی کے اہم امور پر مولانا سے وضاحت کی منتظر ہے۔

دانیال چوہدری کا کہنا تھا کہ فضل الرحمان نے 2023 میں واضح مؤقف اپنایا تھا کہ 9 مئی کے پرتشدد واقعات کا مقصد پاکستان کی مسلح افواج کا مورال گرانا تھا اور جی ایچ کیو پر حملے کے پیچھے بھارتی و اسرائیلی ایجنٹس ملوث تھے۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی کے احتجاج سے ہمیشہ ملک کے دشمنوں نے فائدہ اٹھایا، دانیال چوہدری

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر اس وقت کا بیانیہ درست تھا تو آج ان کے سیاسی مؤقف میں یکسر تبدیلی کیوں آئی ہے؟

بیرسٹر دانیال چوہدری نے یاد دہانی کرائی کہ فضل الرحمان ماضی میں خود یہ کہہ چکے ہیں کہ کسی ایک ملک میں 2 فوجیں نہیں ہو سکتیں اور اپنی افواج کو کمزور کرنے کا براہ راست مطلب دشمن کے ہاتھ مضبوط کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان جیسے زیرک اور تجربہ کار سیاستدان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ عوام کے سامنے یہ واضح کریں کہ ماضی کا بیان غلط تھا یا ان کا موجودہ مؤقف تضادات کا شکار ہے۔ 9 مئی کے واقعات اور دہشت گردی کے خلاف برسرِ پیکار سیکیورٹی اہلکاروں کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا، جبکہ شہدا کے جنازوں میں عوامی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ قوم اپنے اداروں کے ساتھ کھڑی ہے۔

معدنی وسائل اور بیانیے کی حقیقت

معدنی وسائل کے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو حوالے کرنے کے خدشات پر بات کرتے ہوئے پارلیمانی سیکریٹری نے کہا کہ محض خدشات اور ہوا میں تیر چلانے کے بجائے فضل الرحمان ان مخصوص معاہدوں کی نشاندہی کریں جن کا حوالہ دیا جا رہا ہے۔

محض سیاسی تاثر قائم کرنے کے لیے یہ کہنا درست نہیں کہ مختصر عرصے میں ملک کے اثاثے کسی کو دیے جا رہے تھے۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاسی دباؤ يا معدنی وسائل کے بجائے شہدا کے یتیم بچوں اور بیواؤں کی قربانیوں کو مدنظر رکھ کر بات ہونی چاہیے۔

صوبائی موازنہ اور بیرونِ ملک پاکستان مخالف سرگرمیاں

خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی امن و امان کی صورت حال کا موازنہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں صوبوں میں سیکیورٹی چیلنجز کی نوعیت مختلف ہے۔

مزید پڑھیں:سیاسی یتیمی اور اقتدار کی ہوس نے فضل الرحمن کو بوکھلاہٹ میں مبتلا کر دیا، پاک افواج کیخلاف ہرزہ سرائی برداشت نہیں ! سرگودھا کے شہریوں کا شدید ردِعمل

بلوچستان حکومت نے دہشتگردی کے خلاف اقدامات میں وفاق سے کامل تعاون کیا، جبکہ خیبر پختونخوا حکومت نے بعض مقامات پر قومی سلامتی کے بجائے اپنے سیاسی مفادات کو ترجیح دی۔

اس موقع پر انہوں نے عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک بعض عناصر کی جانب سے بلوچستان کی علیحدگی کے نعروں اور پاکستان مخالف سرگرمیوں کا سخت نوٹس لینا ہو گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کا بیانیہ کبھی ملک یا مسلح افواج کے خلاف نہیں رہا اور جن لوگوں نے فوج کو کمزور کرنے کی کوشش کی وہ قوم کے سامنے جواب دہ ہیں۔

سیاسی تناظر اور قومی سلامتی

واضح رہے کہ پاکستان میں سیاسی بیانیے اور قومی سلامتی کے امور کے درمیان توازن ہمیشہ سے ایک حساس موضوع رہا ہے۔ جب اہم سیاسی رہنما اپنے سابقہ بیانیوں سے انحراف کرتے ہیں تو اس سے عوام کے اندر ابہام پیدا ہوتا ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب ملک کو دہشتگردی کی نئی لہر کا سامنا ہو۔

سیکیورٹی اداروں، پولیس اور لیویز کی قربانیاں اس بات کی متقاضی ہیں کہ تمام سیاسی دھارے اپنے ذاتی و جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر ایک پیج پر آئیں۔

وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر تعاون کے بغیر دہشت گردی پر مکمل قابو پانا مشکل ہے، اسی لیے سیاسی قیادت کو چاہیے کہ وہ مبہم پیغامات دینے کے بجائے ریاستی اداروں کی پشت پناہی کرے تاکہ ملکی دفاع اور داخلی استحکام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

Related Articles