سیاسی جماعتیں نئے صوبوں کے قیام پر متفق، قومی مباحثہ میں 32 انتظامی یونٹس بنانے کی تجویز سامنے آگئی

سیاسی جماعتیں نئے صوبوں کے قیام پر متفق،  قومی مباحثہ میں 32 انتظامی یونٹس بنانے کی تجویز سامنے آگئی

پاکستان میں انتظامی تنظیمِ نو اور نئے صوبوں کے قیام سے متعلق قومی مباحثے میں حکومتی و اپوزیشن رہنماؤں، پالیسی ماہرین اور سینئر صحافیوں نے شرکت کی، جس میں ملک کے انتظامی ڈھانچے کو مؤثر بنانے، اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور عوام کو بنیادی سہولیات کی بہتر فراہمی کے لیے نئے انتظامی یونٹس کے قیام پر زور دیا گیا۔ شرکا نے اس بات پر اتفاقِ رائے کی ضرورت اجاگر کی کہ انتظامی اصلاحات کے حوالے سے فیصلے وسیع تر مشاورت اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں۔

قومی مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں نئے صوبوں کی ضرورت ہے، تاہم نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے لیے وسیع تر اتفاقِ رائے ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامی یونٹس کی تعداد بڑھانے سے عوامی مسائل مقامی سطح پر جلد حل کرنے اور سرکاری خدمات کی فراہمی بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

سرفراز بگٹی نے بتایا کہ بلوچستان میں ڈویژنوں کی تعداد 8 سے بڑھا کر 12 کردی گئی ہے۔ ان کے مطابق انتظامی ڈھانچے کو وسعت دینے کا مقصد حکومتی نظام کو عوام کے قریب لانا اور مختلف علاقوں کے مسائل زیادہ مؤثر انداز میں حل کرنا ہے۔

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے تجویز دی کہ ڈویژن کی سطح پر نئے انتظامی یونٹس قائم کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انگریز دور میں قائم کیے گئے ڈویژن جغرافیائی لحاظ سے ایک مؤثر انتظامی نظام کی بنیاد فراہم کرتے ہیں، اس لیے نئے صوبوں کی تشکیل کے بجائے ڈویژنوں کی سطح پر انتظامی اختیارات اور سہولیات بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:کاروباری افراد کے لیے بڑی خوشخبری، 300 ارب روپے کا قرضہ پروگرام شروع کرنے کا اعلان، پیش رفت سے متعلق اہم تفصیلات آ گئیں

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اس طریقہ کار کے تحت ملک بھر میں تقریباً 32 انتظامی یونٹس قائم ہوسکتے ہیں۔ ان کے مطابق انتظامی اصلاحات کو مؤثر بنانے کے لیے پولیس کے نظام کو بھی مقامی سطح پر منظم کرنا ہوگا تاکہ شہریوں کو اپنے علاقوں میں بہتر سکیورٹی اور انصاف کی سہولیات میسر آسکیں۔

انہوں نے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں پولیس کے عوام کے ساتھ رویے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مقامی سطح پر جواب دہی اور انتظامی اختیارات کی موجودگی سے عوام اور پولیس کے درمیان تعلقات بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ جس شدت سے نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ سامنے آتا ہے، اسی طرح اس کی مخالفت بھی موجود ہے، اس لیے اس معاملے میں اتفاقِ رائے پیدا کرنا ضروری ہے۔

سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ نئے صوبے بنانے میں کوئی حرج نہیں اور آئین میں اس کا طریقہ کار موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا بنیادی مسئلہ صرف اختیارات کی منتقلی نہیں بلکہ انتظامی نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنا بھی ہے تاکہ ریاستی ادارے عوام کی ضروریات کے مطابق بہتر کارکردگی دکھا سکیں۔

اسد عمر نے ملک کی آبادی اور منتخب نمائندوں کی تعداد کے حوالے سے بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 25 کروڑ آبادی کے لیے 859 نمائندے موجود ہیں، جبکہ ان کی تعداد ایک لاکھ تک ہونی چاہیے۔ انہوں نے بااختیار مقامی حکومتوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عوام کے مسائل کے حل کے لیے اختیارات اور فیصلہ سازی کو نچلی سطح تک منتقل کرنا ناگزیر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کا قیام ملک کی تقسیم نہیں بلکہ عوام کو بہتر خدمات فراہم کرنے کے انتظامی مسئلے کا حل ہے۔ اسد عمر نے اس تناظر میں ’’ورٹیکل گیپ‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عوام کی ضروریات اور حکومتی خدمات کی فراہمی کے درمیان موجود خلا کو دور کرنے کے لیے انتظامی نظام میں اصلاحات ضروری ہیں۔

اسد عمر نے مزید کہا کہ ملک کی دو صوبائی اسمبلیاں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق قراردادیں منظور کرچکی ہیں۔ ان کے مطابق یہ معاملہ آئینی طریقہ کار کے تحت آگے بڑھایا جاسکتا ہے، تاہم نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے ساتھ مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانا اور سرکاری خدمات کی فراہمی بہتر کرنا بھی ضروری ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما خرم دستگیر نے نئے صوبوں کی تشکیل کو ایک اہم معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے پیش رفت سے قبل آبادی پر قابو پانے اور نئے انتظامی ڈھانچے کے لیے ضروری بنیادیں تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مؤقف کے مطابق انتظامی اصلاحات کا جائزہ لیتے ہوئے آبادی کے دباؤ اور مستقبل کی ضروریات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔

قومی مباحثے میں شرکا نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان کے موجودہ انتظامی ڈھانچے کو مؤثر بنانے کے لیے اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی، مقامی حکومتوں کے استحکام، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور انتظامی یونٹس کی تشکیل پر سنجیدہ غور کیا جائے۔ شرکا کے مطابق نئے صوبوں کے قیام یا ڈویژنوں کی سطح پر انتظامی یونٹس بڑھانے سے متعلق کوئی بھی فیصلہ وسیع تر اتفاقِ رائے، آئینی تقاضوں اور عوامی مفادات کو سامنے رکھ کر کیا جانا چاہیے، تاکہ شہریوں کو تعلیم، صحت، پولیس اور دیگر بنیادی خدمات ان کی دہلیز پر فراہم کرنے کا ہدف حاصل کیا جاسکے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles