چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ڈاکٹر فخر عالم عرفان کی زیر صدارت صوبے کے اعلیٰ سرکاری افسران کا پہلا باضابطہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے، بدعنوانی کے خاتمے اور عوام کو معیاری خدمات کی فراہمی یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکرٹری ڈاکٹر فخر عالم عرفان نے کہا کہ تمام افسران کو محنت اور لگن سے کام کرنا ہوگا تاکہ خیبرپختونخوا کی بیوروکریسی کے حوالے سے دیگر صوبوں میں پائے جانے والے اس تاثر کو ختم کیا جا سکے کہ صوبے کے سرکاری افسران کام نہیں کرتے۔
انہوں نے سرکاری دفاتر میں تاخیر سے آنے کے کلچر کے خاتمے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ تمام افسران اور اہلکار صبح نو بجے سے پہلے اپنے دفاتر پہنچیں اور دفتری اوقات کی پابندی کو یقینی بنائیں۔
چیف سیکرٹری نے واضح کیا کہ کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کیا جائے گا اور کسی بھی صورت بدعنوانی برداشت نہیں کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکاری افسران کی اولین ترجیح عوام کو بہتر خدمات فراہم کرنا اور ان کے مسائل کا فوری اور مؤثر حل ہونا چاہیے۔
ڈاکٹر فخر عالم عرفان نے کہا کہ اگر کسی غلط کام کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے تو درست اور اچھے کام کا کریڈٹ بھی حکومت اور ریاست کو ملنا چاہیے۔ اس لیے سرکاری افسران ذاتی تشہیر کے بجائے عملی کارکردگی اور عوامی خدمت پر توجہ دیں۔
انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ کام نہ کرنے والے افسران کے لیے صوبے میں کوئی جگہ نہیں، جبکہ تمام سرکاری اداروں کو اپنی کارکردگی بہتر بنانا ہوگی اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق چیف سیکرٹری نے عوام کی سہولت کے لیے گزشتہ چند برسوں کے دوران منقطع کیے گئے سرکاری دفاتر کے ٹیلی فون کنکشنز فوری طور پر بحال کرنے کے احکامات بھی جاری کیے، تاکہ شہریوں کو متعلقہ دفاتر سے رابطے میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
چیف سیکرٹری نے مزید کہا کہ وہ جلد مختلف سرکاری دفاتر کا دورہ کریں گے اور اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے۔ انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ عوام کو سہولیات کی فراہمی، ان کے مسائل کے حل اور سرکاری امور کی بروقت انجام دہی کو یقینی بنایا جائےاجلاس میں سرکاری مشینری کی کارکردگی بہتر بنانے، دفتری نظم و ضبط قائم کرنے اور عوامی خدمت کے نظام کو مؤثر بنانے پر زور دیا گیا۔