خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے انہیں حساس معاملات پر سوشل میڈیا پر اظہارِ خیال سے قبل حقائق کی تصدیق کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
آفتاب عالم نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل ہیں اور ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ کسی بھی حساس معاملے پر ٹویٹ کرنے سے پہلے صوبائی پارلیمانی پارٹی سے رابطہ کریں، متعلقہ ارکان کو اعتماد میں لیں اور مکمل حقائق جاننے کے بعد اپنا مؤقف پیش کریں۔
صوبائی وزیر قانون نے واضح کیا کہ صوبائی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی تبدیلی، نئے وزیراعلیٰ کی نامزدگی یا صوبائی صدر کی تبدیلی کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق اجلاس میں صرف یہ متفقہ فیصلہ ہوا کہ وفاقی حکومت، اپوزیشن یا اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ممکنہ مذاکرات میں خیبرپختونخوا کی صوبائی پارلیمانی پارٹی کی مؤثر نمائندگی یقینی بنائی جائے۔
آفتاب عالم نے کہا کہ پارلیمانی اجلاس کے انعقاد کے حوالے سے پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کو باقاعدہ دعوت دی گئی تھی اور انہیں اعتماد میں لینے کے ساتھ ان کی مشاورت سے اجلاس طے کیے گئے تھے۔ لہٰذا اس معاملے کو پارٹی قیادت کے علم اور مشاورت سے ہونے والی کارروائی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
محترم سلمان اکرم راجہ صاحب!
آپ کے حالیہ بیان پر افسوس ہوا۔ آپ پاکستان تحریکِ انصاف کے مرکزی سیکرٹری جنرل ہیں، اس لیے آپ سے توقع کی جاتی ہے کہ کسی بھی حساس معاملے پر ٹویٹ کرنے سے پہلے حقائق کی مکمل تصدیق کریں، صوبائی پارلیمانی پارٹی سے رابطہ کریں اور متعلقہ ارکان کو اعتماد میں لے کر اپنا مؤقف پیش کریں۔ حقائق کی تصدیق کیے بغیر کسی معاملے کو اس انداز میں عوامی سطح پر اٹھانا مناسب نہیں۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ صوبائی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں وزیراعلیٰ کی نامزدگی، صوبائی صدر کی تبدیلی یا کسی دوسرے عہدے کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
اجلاس میں صرف یہ متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ وفاقی حکومت، اپوزیشن یا اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کسی بھی ممکنہ مذاکرات میں خیبرپختونخوا کی صوبائی پارلیمانی پارٹی کی مؤثر نمائندگی یقینی بنائی جائے۔
یہ بات بھی واضح رہے کہ اس پارلیمانی اجلاس کے انعقاد کے حوالے سے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان صاحب کو باقاعدہ دعوت دی گئی تھی، انہیں اعتماد میں لیا گیا تھا اور ان کی مشاورت سے اجلاس طے کیے گئے تھے۔ لہٰذا اس معاملے کو پارٹی قیادت کے علم اور مشاورت سے ہونے والی کارروائی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
اس فیصلے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ماضی میں ہونے والے مذاکرات کے دوران صوبائی پارلیمانی پارٹی کو مناسب مشاورت میں شامل کرنے اور اعتماد میں لینے کا فقدان رہا، جس کے باعث صوبے کے مؤقف اور مفادات کی مؤثر ترجمانی نہیں ہو سکی اور ہمیں سیاسی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
اسی تناظر میں صوبائی پارلیمانی پارٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ آئندہ مذاکرات میں اس کی نمائندگی بھی یقینی بنائی جائے، تاکہ خیبرپختونخوا کے حقوق، عوامی مینڈیٹ اور صوبائی مفادات کا بھرپور دفاع کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ یہ فیصلہ مذاکرات میں صوبے کی مؤثر نمائندگی سے متعلق تھا، نہ کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی نامزدگی یا صوبائی صدر کی تبدیلی سے متعلق۔
سلمان اکرم راجہ صاحب! اختلافِ رائے یا کسی معاملے پر وضاحت طلب کرنا الگ بات ہے، لیکن حقائق کی مکمل تصدیق کے بغیر پارٹی کے اندرونی معاملات کو عوامی سطح پر اس انداز میں پیش کرنا غیرضروری ابہام اور غلط فہمیوں کو جنم دیتا ہے۔
آپ سے گزارش ہے کہ آئندہ ایسے حساس معاملات پر ٹویٹ کرنے سے پہلے صوبائی پارلیمانی پارٹی اور متعلقہ قیادت سے براہِ راست رابطہ کرکے حقائق کی تصدیق ضرور کریں۔ پارٹی کے اہم معاملات میں باہمی مشاورت، اعتماد اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل ناگزیر ہیں۔
پاکستان تحریکِ انصاف کی اصل طاقت عمران خان کی قیادت، کارکنوں کی قربانیوں اور عوامی اعتماد میں ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ پارٹی کے اندرونی معاملات باہمی مشاورت سے حل کیے جائیں اور غیرضروری غلط فہمیوں سے گریز کیا جائے۔
ہم سب کو عمران خان کے وژن کے مطابق متحد رہتے ہوئے پارٹی کے اتحاد، خیبرپختونخوا کے عوامی مینڈیٹ اور صوبے کے حقوق کے تحفظ کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔
صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم#PTI #KhyberPakhtunkhwa #SalmanAkramRaja #ImranKhan
@salmanAraja— Aftab Alam (@AftabAlamPTI) October 21, 2026


