پاکستان میں مجوزہ آٹو پالیسی 2026-31 کے تحت گاڑیوں پر ٹیکسوں اور درآمدی ڈیوٹیز میں تبدیلیوں سے سوزوکی کلٹس کی قیمت میں نمایاں کمی کا امکان ہے۔
مجوزہ پالیسی کے اثرات کا تخمینہ لگانے سے 43 لاکھ روپے مالیت کی سوزوکی کلٹس پہلے سال میں تقریباً 38 لاکھ روپے کی ہوسکتی ہے، جس سے قیمت میں 5 لاکھ روپے تک کمی کا امکان ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کو آٹوموٹیو اینڈ آٹو پارٹس پالیسی 2026-31 کے حتمی مسودے کی منظوری دے دی۔ اب یہ مسودہ منظوری کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو پیش کیا جائے گا، جس کے بعد وفاقی کابینہ اس پر غور کرے گی۔
حکومت مجوزہ ٹیکس شرحوں کے نفاذ کے لیے بعد ازاں پارلیمنٹ میں بل پیش کرے گی۔ پالیسی میں ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں اور روایتی اندرونی احتراقی انجن (ICE) والی گاڑیوں پر ڈیوٹیز اور ٹیکسوں کے حوالے سے یکساں سلوک تجویز کیا گیا ہے۔
مجوزہ پالیسی کے مطابق 2031 میں روایتی انجن والی کاروں اور اسپورٹس یوٹیلیٹی وہیکلز (SUVs) پر کسٹمز ڈیوٹی 15 فیصد مقرر کرنے کی تجویز ہے، جبکہ اس کے علاوہ کوئی اضافی یا ریگولیٹری ڈیوٹی عائد نہیں ہوگی۔
تاہم سوزوکی کلٹس کی قیمت میں 5 لاکھ روپے کمی کا تخمینہ مجوزہ پالیسی کے ممکنہ اثرات کی بنیاد پر لگایا گیا ہے۔ حکومت نے گاڑی کی نئی قیمت کا باضابطہ اعلان نہیں کیا، جبکہ پالیسی کا نفاذ آئی ایم ایف اور وفاقی کابینہ کی منظوری سے مشروط ہے۔
