پانی ہماری ریڈلائن!پاکستان کا پانی روکا توجنگی اقدام تصور ہوگا،شہباز شریف کا بھارت کو دو ٹوک پیغام

پانی ہماری ریڈلائن!پاکستان کا پانی روکا توجنگی اقدام تصور ہوگا،شہباز شریف کا بھارت کو دو ٹوک پیغام

وزیراعظم شہباز شریف نے بھارت کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا پانی ہماری ریڈلائن ہے اور اسے روکنے کی کوئی بھی کوشش جنگی اقدام تصور ہوگی۔ انہوں نے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کے بھارتی فیصلے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ معاہدوں پر عمل درآمد تمام ممالک کی ذمہ داری ہے۔

یہ بات وزیراعظم نے مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے مفاہمتی یادداشتوں کے تبادلے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، تجارت، دفاع، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں شراکت داری پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

پانی پر پاکستان کا واضح مؤقف

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے معاملے پر واضح مؤقف رکھتا ہے اور پانی روکنے کی کسی بھی کوشش کو معمول کا معاملہ نہیں سمجھا جائے گا۔ ان کے مطابق سندھ طاس معاہدہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ معاہدہ ہے، جس پر عمل درآمد ضروری ہے۔

وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے اصولی مؤقف برقرار رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری خطے میں استحکام اور ممالک کے درمیان اعتماد کے لیے اہم ہے۔

مالدیپ کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور مالدیپ کے تعلقات مختلف شعبوں میں مضبوط ہوئے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون، تجارت اور دفاع سمیت متعدد شعبوں میں شراکت داری بڑھانے کے امکانات موجود ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مالدیپ کے طلبہ کی بڑی تعداد پاکستانی تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہے، جبکہ پاکستانی ڈاکٹرز اور معاون طبی عملہ مالدیپ میں خدمات انجام دے رہا ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان برادر ملک مالدیپ کی مزید ضروریات پوری کرنے میں بھی تعاون کرکے خوشی محسوس کرے گا۔

فلسطین پر پاکستان اور مالدیپ کا مشترکہ مؤقف

وزیراعظم نے مسئلہ فلسطین پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مالدیپ فلسطینی عوام کے حق میں مکمل حمایت رکھتا ہے۔ پاکستان بھی ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے اپنے اصولی مؤقف کی حمایت جاری رکھے گا۔

صدر معیزو کا تعاون بڑھانے پر زور

مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو نے کہا کہ پاکستان اور مالدیپ کے سفارتی تعلقات کے 60 سال باہمی تعاون اور دوستی پر مبنی ہیں۔ دونوں ممالک تعلیم، صحت اور تجارت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان، مالدیپ بزنس فورم کے ذریعے تجارتی اور اقتصادی تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ نوجوانوں کے تبادلے کے پروگرام کے تحت وفود کی آمدورفت بڑھانے پر بھی زور دیا جائے گا،صدر معیزو کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل نظام اور جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ دونوں ممالک ان شعبوں میں تعاون بڑھا کر ترقی کے نئے امکانات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

editor

Related Articles