پاکستان اور مالدیپ نے اپنے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو ایک نئی اقتصادی اور تزویراتی شراکت داری میں تبدیل کرنے پر اتفاق کرتے ہوئے مختلف شعبوں میں تعاون کے 20 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کر دیے ہیں، جبکہ دونوں ممالک نے آئندہ دو سال کے دوران دوطرفہ تجارت کا حجم موجودہ ایک کروڑ 39 لاکھ ڈالر سے بڑھا کر 20 کروڑ ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف اور مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات اور وفود کی سطح پر مذاکرات کے دوران دونوں ممالک کے رہنماؤں نے اقتصادی تعاون، تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، سمندری سلامتی، مصنوعی ذہانت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، تعلیم، صحت، سیاحت، ماحولیاتی تحفظ اور علاقائی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
مالدیپ کے صدر کا تین روزہ دورۂ پاکستان خصوصی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ گزشتہ 11 برسوں میں کسی مالدیپی صدر کا پہلا دورہ ہے۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان 1966 میں قائم ہونے والے سفارتی تعلقات کی 60ویں سالگرہ کے موقع پر ہو رہا ہے۔
معاہدوں پر دستخط کی تقریب کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور مالدیپ کے درمیان تاریخی، برادرانہ اور دوستانہ تعلقات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک کے اقتصادی روابط ان کی حقیقی صلاحیتوں اور باہمی تعاون کے امکانات کی مکمل عکاسی نہیں کرتے۔
وزیراعظم نے بتایا کہ پاکستان اور مالدیپ کے درمیان موجودہ دوطرفہ تجارت کا حجم تقریباً ایک کروڑ 39 لاکھ ڈالر ہے، جسے آئندہ دو سال میں 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ مشترکہ کوششوں، سرمایہ کاری کے فروغ اور کاروباری روابط میں اضافے سے اس ہدف کے حصول کی راہ ہموار ہوگی۔
مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو نے تجارتی ہدف کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں جن سے بھرپور استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ طے پانے والے معاہدوں کی حقیقی کامیابی اسی وقت ممکن ہوگی جب ان کے مثبت اثرات دونوں ممالک کے کاروباری اداروں اور عوام کی زندگیوں میں نمایاں ہوں گے۔
دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے پاکستان مالدیپ بزنس فورم کے انعقاد پر بھی اتفاق کیا گیا ہے، جس میں کاروباری شخصیات، سرمایہ کار اور مختلف شعبوں کے نمائندے تجارتی مواقع اور مشترکہ منصوبوں کا جائزہ لیں گے۔
اس سلسلے میں مالدیپ کی اسٹیٹ ٹریڈنگ آرگنائزیشن اور ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے درمیان زرعی اجناس، غذائی مصنوعات اور دیگر اشیا کی تجارت میں تعاون سے متعلق مفاہمتی یادداشت بھی طے پائی ہے۔
دفاع، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی میں تعاون
دورے کے دوران طے پانے والے 20 معاہدوں میں دفاعی تعاون، سمندری سلامتی، سائبر سیکیورٹی، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل مہارتوں، انفارمیشن ٹیکنالوجی، تکنیکی تعلیم، صحت، زراعت، ماہی گیری، سیاحت، ثقافت، نوجوانوں کی ترقی، کھیلوں اور ماحولیاتی تحفظ جیسے اہم شعبے شامل ہیں۔
دونوں ممالک نے پولیس کی تربیت، منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام اور سرکاری اداروں کی پیشہ ورانہ استعداد میں اضافے کے لیے بھی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے مالدیپ کو انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈیٹا سینٹرز کے قیام میں پاکستان کی تکنیکی مہارت فراہم کرنے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ان شعبوں میں اپنے تجربات اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے مالدیپ کو فائدہ پہنچانے کے لیے تیار ہے۔
تعلیم اور صحت کے شعبوں میں تعاون پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ مالدیپ کے متعدد طلبہ پاکستانی تعلیمی اداروں، خصوصاً طبی شعبے میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جبکہ تقریباً 250 پاکستانی ڈاکٹرز اور طبی عملے کے دیگر ارکان مالدیپ میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
مالدیپ کے صدر نے مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، جدید علوم اور صحت کے شعبوں میں تعلیمی وظائف اور تربیتی مواقع بڑھانے میں دلچسپی ظاہر کی۔
پاکستان اور مالدیپ کے درمیان براہِ راست پروازوں پر غور
مذاکرات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست فضائی رابطوں کے قیام پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مالدیپ کے صدر نے اس پیش رفت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ فضائی روابط میں بہتری سے سیاحت، تجارت، تعلیم اور عوامی سطح پر تعلقات کو فروغ ملے گا۔
دونوں رہنماؤں نے حلال اور مسلم دوست سیاحت کے فروغ کے امکانات پر بھی گفتگو کی۔ فضائی روابط کے شعبے میں تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشت طے پائی، تاہم براہِ راست پروازوں کے آغاز کی کسی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔
مالدیپ میں شجرکاری مہم کے لیے پاکستان کی معاونت کا اعلان
ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے تعاون بھی مذاکرات کا اہم موضوع رہا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے مالدیپ میں 50 لاکھ درخت لگانے کے منصوبے میں معاونت کے لیے پاکستان کی جانب سے زیتون کی ایک لاکھ قلمیں اور مختلف اقسام کے پودوں کے ایک لاکھ بیج فراہم کرنے کا اعلان کیا۔
صدر محمد معیزو نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی مالدیپ کے لیے محض ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی، معاشی ترقی اور مستقبل کے تحفظ سے براہِ راست متعلق ایک سنگین چیلنج ہے۔
مسئلہ کشمیر، فلسطین اور آبی سلامتی پر بھی تبادلہ خیال
دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے مسئلہ جموں و کشمیر کے بارے میں پاکستان کے مؤقف سے مالدیپ کے صدر کو آگاہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق تنازع کے پُرامن حل کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیراعظم نے بھارت کی جانب سے اپریل 2025 میں سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کے فیصلے پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری ضروری ہے اور مشترکہ آبی وسائل کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
دوسری جانب مالدیپ کے صدر نے جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون تنظیم (سارک) کو فعال بنانے کی حمایت کرتے ہوئے علاقائی ممالک کے درمیان اعتماد سازی، مذاکرات اور باہمی تعاون بڑھانے پر زور دیا۔
مالدیپ کے صدر کا پرتپاک استقبال، اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری تفویض
مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کی وزیراعظم ہاؤس آمد پر ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا اور پاکستان کی تینوں مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔ مالدیپ کے صدر نے وزیراعظم ہاؤس میں یادگاری پودا بھی لگایا۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی مالدیپ کے صدر سے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، سیاحت اور موسمیاتی تبدیلی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت ہوئی۔
دورے کے دوران بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد نے مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کو ان کی عوامی خدمات اور قیادت کے اعتراف میں سیاسیات کے شعبے میں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری بھی عطا کی۔
مشترکہ پریس کانفرنس میں صدر محمد معیزو نے کہا کہ ان کا دورہ محض ماضی کی دوستی کا جشن منانے کے لیے نہیں بلکہ مستقبل کی شراکت داری کی نئی بنیادیں استوار کرنے کے لیے ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور مالدیپ کے درمیان دوستی اور تعاون کا سفر مزید مضبوط ہوگا اور دونوں ممالک اقتصادی ترقی، علاقائی استحکام اور عوامی خوشحالی کے مشترکہ مقاصد کے لیے کام جاری رکھیں گے۔
دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے 20 معاہدوں کو دوطرفہ تعلقات میں ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ان کے عملی نفاذ، تجارتی روابط میں اضافے، براہِ راست فضائی سہولتوں اور مشترکہ منصوبوں میں پیش رفت سے ہی اس نئی شراکت داری کے حقیقی نتائج سامنے آئیں گے۔