سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت خدمات نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کو ہدایت کی ہے کہ بچوں کے فارمولا دودھ کے اشتہارات میں لازمی طور پر واضح کیا جائے کہ ماں کے دودھ کا کوئی متبادل نہیں۔ کمیٹی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ماں کے دودھ کے متبادل کی جارحانہ تشہیر بچوں میں غذائی قلت کے خلاف کوششوں کو متاثر کرسکتی ہے۔
منگل کو ہونے والے اجلاس میں کمیٹی نے پیمرا کو ہدایت کی کہ وہ فارمولا دودھ کے اشتہارات میں صحت سے متعلق واضح تنبیہات یقینی بنائے۔ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر عامر ولی الدین چشتی نے کہا کہ پیمرا فیصلہ کرسکتا ہے کہ اشتہارات پر پابندی عائد کی جائے، جرمانے کیے جائیں یا دیگر ضابطہ جاتی اقدامات اٹھائے جائیں، تاہم کمیٹی کی ہدایات پر عمل درآمد ضروری ہے۔
اجلاس کے دوران پیمرا کی چیئرپرسن عنبرین جان نے ماں کے دودھ سے بچوں کی غذائیت اور دودھ پلانے کی اہمیت اجاگر کرنے والے عوامی آگاہی پیغامات پیش کیے۔
یہ بھی پڑھیں: ایم این اے مولانا نسیم علی شاہ کے خلاف تھری ایم پی او کے تحت بڑی کارروائی، سینٹرل جیل ہری پور منتقل
اس موقع پر سینیٹر شہزیب درانی نے کہا کہ کمیٹی کی سابقہ ہدایات میں بھی فارمولا دودھ کی تشہیر کی حوصلہ شکنی کرنے پر زور دیا گیا تھا، بالخصوص ایسے معاملات میں جہاں مائیں بچوں کو اپنا دودھ پلا سکتی ہیں لیکن متبادل دودھ کا انتخاب کرتی ہیں۔
سینیٹر شہزیب درانی نے تجویز دی کہ فارمولا دودھ کے اشتہارات میں سگریٹ کے اشتہارات کی طرز پر لازمی تصویری تنبیہات شامل کی جائیں۔ پیمرا کی چیئرپرسن نے فارمولا دودھ کے اشتہارات پر پابندی لگانے کی تجویز دی، تاہم کمیٹی کے ارکان نے مؤقف اختیار کیا کہ اس حوالے سے ضابطہ جاتی کارروائی کا اختیار پیمرا کے پاس ہے۔
یہ بحث پاکستان میں بچوں کی غذائی قلت سے متعلق خدشات کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کے تخمینے کے مطابق پاکستان میں تقریباً ایک کروڑ بچے نشوونما میں کمی کا شکار ہیں، جبکہ صرف 38 فیصد بچوں کو زندگی کے ابتدائی 6 ماہ کے دوران صرف ماں کا دودھ پلایا جاتا ہے۔
