بدرمنصوبہ علاقائیامن واستحکام کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے،خواجہ آصف

بدرمنصوبہ علاقائیامن واستحکام کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے،خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاکستان، قطر، انڈونیشیا اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کے منصوبے ’’بدر‘‘ کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کو علاقائی امن و استحکام کے لیے چاروں ممالک کے مشترکہ عزم کا اظہار قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنے قابل اعتماد شراکت داروں کے ساتھ دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور اس شعبے میں باہمی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے کو اہمیت دیتا ہے۔

خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ بدر مفاہمتی یادداشت خطے میں امن اور استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ  پاکستان، قطر، انڈونیشیا اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کو وسعت دینے سے چاروں ممالک کو اپنی صلاحیتوں اور تجربات سے ایک دوسرے کو مستفید کرنے کے مزید مواقع میسر آسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :.دوحہ میں پاکستان سمیت چار ممالک کے درمیان ’’بدر‘‘ دفاعی معاہدے پر دستخط

وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان متعلقہ ملکی اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق دفاعی شعبے میں خود انحصاری کو فروغ دینے، صنعتی تعاون بڑھانے، مشترکہ پیداوار اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے امکانات پر کام کرنے کا خواہاں ہے، ان اقدامات کا مقصد دفاعی صنعت کو مضبوط بنانا اور شراکت دار ممالک کی تکنیکی و صنعتی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بدر منصوبے کے تحت مشترکہ تحقیق و ترقی، تربیتی تبادلوں اور دفاعی صنعت کی صلاحیت میں اضافے کے لیے تعاون کو فروغ دینے پر توجہ دی جائے گی۔
اس سلسلے میں چاروں ممالک ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے دفاعی پیداوار اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اشتراک کے نئے راستے تلاش کرسکتے ہیں۔

خواجہ آصف کے بیان کے مطابق پاکستان قابل اعتماد شراکت داروں کے ساتھ دفاعی تعاون کو محض سازوسامان کی تیاری تک محدود رکھنے کے بجائے تحقیق، تربیت، صنعتی ترقی اور جدید ٹیکنالوجی کے تبادلے سمیت مختلف شعبوں میں وسعت دینا چاہتا ہے،بدر مفاہمتی یادداشت اسی تعاون کو آگے بڑھانے اور علاقائی امن و استحکام کے مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔

editor

Related Articles