پنجاب حکومت اور سعودی عرب کے درمیان غذائی برآمدات بڑے تعاون پر اتفاق، ایک ارب 80 کروڑ ڈالر کا ہدف مقرر

پنجاب حکومت اور سعودی عرب کے درمیان غذائی برآمدات بڑے تعاون پر اتفاق، ایک ارب 80 کروڑ ڈالر کا ہدف مقرر

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے سعودی سفیر سے ملاقات میں ایک ارب 80 کروڑسے زیادہ کی زرعی اور غذائی برآمدات کا ہدف مقرر کرتے ہوئے دوطرفہ معاشی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

لاہور میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر ڈاکٹر راجح البقمی کے درمیان ہونے والی اعلیٰ سطح کی ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے اور تجارتی حجم میں نمایاں اضافے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ نے بتایا کہ پنجاب حکومت نے سعودی عرب کے لیے ایک ارب 80 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی غذائی برآمدات کا ہدف مقرر کیا ہے، جس کے تحت چاول، پھل، سبزیاں اور دیگر زرعی اجناس کی ترسیل کو بھرپور طریقے سے بڑھایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:مولانا کی کے پی کی بربادی کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں لانے کے بجائے ان کی حمایت افسوسناک ہے، مریم نواز

پنجاب، جو کہ پاکستان کی گندم، چاول، کینوس فروٹ، سبزیوں اور لائیو سٹاک کی پیداوار کا سب سے بڑا حصہ فراہم کرتا ہے، اس وقت سعودی منڈی کے لیے ایک انتہائی اہم اور قابلِ اعتماد خطہ بن چکا ہے۔

حلال فوڈ اور لائیو سٹاک کے وسیع تر امکانات

ملاقات کے دوران اس بات پر خصوصی زور دیا گیا کہ پنجاب سعودی عرب کی فوڈ سیکیورٹی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایک مستند اور قابلِ اعتماد سپلائر کے طور پر ابھر سکتا ہے۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ خطے میں حلال مصدقہ اشیاء کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور پنجاب کے پاس لائیو سٹاک، بیف، پولٹری، پھلوں اور سبزیوں کی برآمدات کو بڑھانے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔

ان تمام وسائل کو منظم طریقے سے بروئے کار لانے کے لیے عملی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں تاکہ دونوں ممالک کے تجارتی روابط کو پائیدار بنیادیں فراہم کی جا سکیں۔

سعودی عرب پاکستان کے لیے خلیجی خطے میں سب سے اہم تجارتی اور اقتصادی حلیفوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں خوراک اور زراعت باہمی تجارت کا مرکزی ستون ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کو حالیہ برسوں میں مزید گہرائی ملی ہے۔

اکتوبر کے مہینے میں گزشتہ برس وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ ریاض کے دوران دونوں ممالک نے باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے ایک جامع اقتصادی تعاون کے فریم ورک کی منظوری دی تھی۔

اس کے تسلسل میں 2024 کے دوران پاکستان اور سعودی عرب نے مختلف شعبوں میں 2 ارب 80 کروڑ ڈالر مالیت کے 34 مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کیے تھے، جو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے پختہ اعتماد کا واضح مظہر ہیں۔

ترسیلاتِ زر اور معاشی استحکام

سعودی عرب پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے سعودی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس امر پر روشنی ڈالی کہ سعودی عرب پاکستان کے لیے ترسیلاتِ زر کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، جو سالانہ تقریباً 9 ارب 80 کروڑ ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پاکستان کی معیشت کو بھرپور سہارا فراہم کرتا ہے۔

مزید پڑھیں:پی ٹی آئی نے اپنی حکومت خود ختم کی، پہلا لانگ مارچ ہے جو اپنی حکومت کو کھا گیا ، وزیراعلیٰ مریم نواز

یہ ترسیلاتِ زر نہ صرف ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھتی ہیں بلکہ عوام کے معیارِ زندگی کو بلند کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور بالخصوص پنجاب کی قیادت اس شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے لیے انتہائی پرعزم ہے۔

خطے کی سلامتی اور مشترکہ مفادات

ملاقات کے دوران علاقائی سلامتی اور امن کے امور پر بھی گفتگو ہوئی۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے مملکتِ سعودی عرب پر ہونے والے حوثی حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور ان پے در پے حملوں میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان اور پنجاب کے عوام سعودی عرب کے ساتھ ہر مشکل وقت میں شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ’مشترکہ معاشی مضبوطی ہی دراصل مشترکہ سلامتی کی سب سے بڑی ضامن ہے‘۔

دونوں برادر ممالک کے درمیان غذائی برآمدات اور زرعی تعاون میں اضافے کا یہ اقدام محض ایک روایتی تجارتی معاہدہ نہیں بلکہ جغرافیائی و معاشی حکمت عملی کا ایک بہترین شاہکار ہے۔

سعودی عرب کی ’ویژن 2030‘ کے تحت فوڈ سیکیورٹی کے حصول کے لیے پاکستان بالخصوص پنجاب کے زرعی وسائل انتہائی موزوں ہیں۔

اگر پنجاب اپنے زرعی انفراسٹرکچر، کولڈ چین لاجسٹکس اور حلال فوڈ سرٹیفکیشن کے نظام کو عالمی معیار کے مطابق ڈھال لے، تو یہ ہدف نہ صرف بآسانی حاصل کیا جا سکتا ہے بلکہ یہ طویل مدتی معاشی خود کفالت اور زر مبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے کی طرف ایک انقلابی قدم ثابت ہوگا۔

Related Articles