خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں محکمہ تعلیم کے مالی معاملات سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کی ایک اور کہانی سامنے آئی جس پر نئے سیٹ اپ کے بعد اب محکمہ تعلیم نے سخت ایکشن لے لیا ہے ، درحقیقت یہ پی ٹی آئی کی کرپٹ حکومت کے پھیلائے ہوئے گند کو سمیٹنے کی کوششیں جاری ہیں ۔
ٹیبلٹس کی خریداری اور تقسیم میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے ، اس حوالے سے محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا نے آڈٹ اعتراضات کی جانچ کے لیے انکوائری کمیٹی قائم کردی جسے صرف تین دن کے اندر حقائق سامنے لانے کی سخت ہدایت کی گئی ہے۔
خریداری سے تقسیم تک: تمام ریکارڈ کی باریک بینی سے جانچ
محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا کی جانب سے تشکیل دی گئی انکوائری کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ معاملے کے تمام پہلوؤں کا بلا امتیاز جائزہ لے کر تین دن کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے۔
تحقیقات کے دائرہ کار میں درج ذیل اہم نکات شامل ہیں:
خریداری کا طریقہ کار یعنی ٹیبلٹس کی خریداری سے متعلق تمام دستاویزات اور ٹینڈرنگ پروسیس کی جانچ۔
فراہمی اور تقسیم: متعلقہ اداروں اور اسکولوں کو ڈیوائسز کی فراہمی اور ان کی تقسیم کا ریکارڈ۔
عملی استعمال: اسکولوں میں ان ڈیوائسز کی موجودہ حالت اور تعلیمی مقاصد کے لیے ان کا واقعی استعمال۔
ٹیبلٹس کی فزیکل تصدیق اور اسٹاک رجسٹرز کا معائنہ
انکوائری کمیٹی صرف کاغذی کارروائی یا تحریری دستاویزات تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ دستیاب ٹیبلٹس کی موقع پر جا کر فزیکل تصدیق بھی کی جائے گی ۔ اس کے ساتھ ساتھ اسٹاک رجسٹرز کا باریک بینی سے جائزہ لے کر ریکارڈ میں درج تعداد اور حقیقت میں موجود ڈیوائسز کا آمنے سامنے موازنہ کیا جائے گا۔
مزید برآں، تمام اضلاع کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسران (ڈی ای اوز) سے فراہم کردہ ٹیبلٹس کا تمام ڈیٹا طلب کر لیا گیا ہے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ کس ضلع کو کتنے ٹیبلٹس دیے گئے اور کاغذات سے ہٹ کر ان کا کیا وجود ہے۔
تین دن کا الٹی میٹم
مبینہ طور پر غائب ہونے والے کروڑوں روپے کے ٹیبلٹس کی سچائی جاننے کے لیے کمیٹی کی آنے والی رپورٹ میں آڈٹ اعتراضات، دستیاب ریکارڈ اور فزیکل تصدیق سے حاصل ہونے والے نتائج ہی اصل حقیقت کا فیصلہ کریں گے اور خریداری و تقسیم میں ملوث ذمہ دار افسران کا تعیّن کریں گے۔ اس حوالے سے نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے ۔
سرکاری وسائل اور عوامی ٹیکس کے پیسوں سے خریدی گئی اشیاء میں شفافیت محض ایک قانونی ضرورت نہیں بلکہ غریب بچوں اور اساتذہ کے مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہونے والا معاملہ ہے ، افسوسناک امر یہ ہے کہ تحریک انصاف (PTI) حکومت کے دور سے جاری یہی بے ضابطگیاں اور کرپشن نے صوبے میں خرابیوں کو جنم دیا ، خیبرپختونخوا میں سالہا سال سے قائم پی ٹی آئی کی حکمرانی میں بلند و بانگ دعوؤں اور ڈیجیٹل انقلاب کے نعروں کے پیچھے نااہلی اور بدعنوانیاں ہی چھپی رہیں۔
انکوائری کمیٹی کا قیام اس بات کا ثبوت ہے کہ اب مزید غفلت یا پردہ پوشی برداشت نہیں کی جائے گی ، ‘دعوے نہیں، کام’ کے مصداق کرپشن کرنیوالے ایک ایک کردار کو بے نقاب کر کے سخت ترین سزا دی جانی چاہیے۔