بچوں کے بستے، اساتذہ کے ٹیبلٹس بھی محفوظ نہ رہے، پی ٹی آئی نےکرپشن کی تمام حدیں پار کر لیں

بچوں کے بستے، اساتذہ کے ٹیبلٹس بھی محفوظ نہ رہے، پی ٹی آئی نےکرپشن کی تمام حدیں پار کر لیں

 خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں محکمہ تعلیم کے مالی معاملات سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کی ایک اور کہانی سامنے آگئی ہے۔ 
صرف ایک سال کے دوران محکمہ تعلیم میں 92 کروڑ روپے کی مبینہ بے ضابطگیاں رپورٹ ہوئیں۔

اس عرصے میں شہرام ترکئی صوبائی وزیر تعلیم تھے۔ رپورٹ کے مطابق نئی بھرتی ہونے والی اساتذہ کو ٹیبلٹس فراہم کرنے کے منصوبے میں بھی مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔

معاملہ اس وقت مزید اہم ہوگیا جب ٹیبلٹس کی تقسیم اور واپسی سے متعلق اعدادوشمار سامنے آئے۔

  رپورٹ کے مطابق 15 ہزار افراد میں 42 کروڑ 47 لاکھ روپے مالیت کے ٹیبلٹس تقسیم کیے گئے تھے۔

 یہ بھی پڑھیں ؛پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹر امجد علی آمدن سے زائد اثاثوں کی زد میں، نیب نے ایٹین ہاؤسنگ اور جالو زئی اسکیموں کا ریکارڈ طلب کر لیا

بعدازاں اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔ سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق صرف ایک ہزار 779 ٹیبلٹس ڈائریکٹوریٹ کو واپس کیے گئے جبکہ باقی 13 ہزار 221 ٹیبلٹس کی واپسی کا ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا ۔

محکمہ تعلیم میں 92 کروڑ کی مبینہ بے ضابطگیاں

خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے تقریباً تیرہ سالہ دور حکومت کے حوالے سے محکمہ تعلیم کے مالی معاملات پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔  دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک سال کے دوران مجموعی طور پر 92 کروڑ روپے کی مبینہ بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔

یہ معاملہ سرکاری وسائل کے استعمال اور تعلیمی شعبے کے منصوبوں میں مالی شفافیت سے متعلق سوالات پیدا کرتا ہے۔

اساتذہ کے ٹیبلٹس کی خریداری اور تقسیم
محکمہ تعلیم میں نئی بھرتی ہونے والی اساتذہ کو ٹیبلٹس کی فراہمی بھی مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی زد میں آئی۔  ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسران کے ذریعے ٹیبلٹس کی فراہمی کے عمل میں 37 کروڑ 43 لاکھ روپے کی مبینہ بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی۔

اساتذہ کو ڈیجیٹل سہولتیں فراہم کرنے کا مقصد تعلیمی سرگرمیوں میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینا ہوسکتا ہے۔ تاہم ایسے منصوبوں میں سرکاری رقم کے درست استعمال اور آلات کی تقسیم کا مکمل ریکارڈ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :قومی وسائل کی لوٹ مار میں ملوث پی ٹی آئی کا خیبر پختونخوا کی معدنیات سے متعلق جھوٹا پروپیگنڈا بھی بے نقاب

اگر تقسیم کیے گئے آلات کی موجودگی، وصولی اور استعمال کی تصدیق نہ ہو تو منصوبے کی شفافیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔ اسی لیے ٹیبلٹس کی تعداد، مستحق افراد کی فہرست اور وصولی کی رسیدوں کی جانچ ضروری ہے۔
سرکاری منصوبوں میں سکروٹنی کمیٹیوں کا کردار ریکارڈ کی جانچ اور بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرنا ہوتا ہے۔ اس معاملے میں بھی کمیٹی کی رپورٹ نے ٹیبلٹس کی واپسی کے اعدادوشمار کو نمایاں کیا ہے۔

editor

Related Articles