لوٹ مار کا حساب دینے کے بجائے اداروں کیخلاف ہرزہ سرائی ! جمہوریت کے نام نہاد علمبردار جاوید ہاشمی کا اصل چہرہ بے نقاب

لوٹ مار کا حساب دینے کے بجائے اداروں کیخلاف ہرزہ سرائی ! جمہوریت کے نام نہاد علمبردار جاوید ہاشمی کا اصل چہرہ بے نقاب

کیا ملک میں جمہوریت اور قانون کی بالادستی کا نعرہ لگانے والے سیاستدان پسِ پردہ عوامی اور سرکاری جائیدادوں پر ہاتھ صاف کرتے رہے ہیں؟ اقتدار میں رہ کر فائدے سمیٹنا اور اقتدار سے باہر ہوتے ہی اداروں کو نشانہ بنانا ہی پی ٹی آئی کے سیاسسدانوں کا اصل معیار بن گیا ہے،  سینئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی بھی بغاوت کے ساتھ ساتھ کرپشن کے کئی سنگین اور بڑے اسکینڈل میں ملوث رہے ہیں ۔

آج مخدوم جاوید ہاشمی ملک کے قومی اداروں کے خلاف بیانیے اور تضحیک آمیز رویہ اپنائے ہوئے ہیں، کیا وہ نہیں جانتے کہ ان کا اپنا ماضی کس قدر داغدار رہا ہے؟ جب وہ خود اقتدار کے ایوانوں میں براجمان اور حکومت میں تھے،  تو ان پر مالی بے ضابطگیوں، اختیارات کے ناجائز استعمال اور غیر قانونی پراپرٹی ڈیلز کے سنگین کیسز سامنے آئے ۔

جب طاقت اور حکومت کا ہما ان کے سر پر بیٹھا تھا، تو سرکاری وسائل اور عوامی املاک کی لوٹ مار میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی گئی، اور جیسے ہی اقتدار کا سورج غروب ہوا، انہوں نے خود کو ‘سیاسی مظلوم’ بنا کر اداروں کے خلاف زہر افشانی شروع کر دی۔

قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے ان کے خلاف تیار کردہ سنسنی خیز ریفرنس اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ جب طاقت ان کے ہاتھ میں تھی، تو سرکاری وسائل اور املاک پر کس طرح ہاتھ صاف کیا گیا ۔

اوقاف کی زمینیں، 500 ایکڑ رقبہ اور کاٹن فیکٹریاں

جاوید ہاشمی کا سیاسی ماضی اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے خلاف کوئی ایک نہیں بلکہ سلسلہ وار اسکینڈلز اور سنگین کیسز سامنے آتے رہے ہیں ، نیب کی تیار کردہ تحقیقاتی رپورٹ اس بات کو بے نقاب کرتی ہے کہ جاوید ہاشمی جب اقتدار اور حکومت کے مزے لوٹ رہے تھے، تو ان پر جو کیس بنے ان میں  محکمہ اوقاف کی قیمتی سرکاری زمینوں پر نہ صرف قبضہ بلکہ انہیں غیر قانونی طور پر بیچ کر کروڑوں روپے اپنی جیبوں میں ڈالنے کا بھی انکشاف سامنے آیا  ۔

یہی نہیں اسلام آباد، ملتان اور ان کے آبائی گاؤں ‘مخدوم رشید’ میں 3 پرتعیش مکانات حاصل کرنے کا انکشاف بھی سامنے آٰیا جبکہ اپنے عہدوں اور اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے 500 ایکڑ زرعی زمین، ایک کاٹن فیکٹری اور ایک آئل مل قائم کرنے کا بھی معاملہ زیر بحث رہا ۔

اس کے ساتھ ساتھ غیر قانونی ذرائع سے حاصل کی گئی متعدد قیمتی گاڑیاں اور مالی فوائد بھی شامل رہے ہیں ۔

جب بھی کوئی نیا اسکینڈل بے نقاب ہوتا، تو الیکشن کمیشن کو جمع کرائے گئے کاغذی فارمز کی صفائیاں دے کر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی جاتی۔

بیٹی کی صفائیاں اور الیکشن ڈیکلریشن کا سہارا

جب جاوید ہاشمی کے ان کارناموں پر گھیراؤ تنگ ہوا تو ان کی صاحبزادی مخدومہ میمونہ ہاشمی نے روایتی سیاسی دفاع اپناتے ہوئے نیب کے الزامات کو مسترد کرنے کی کوشش کی اور ان  کا موقف تھا کہ “والد صاحب یا ہمارے خاندان نے ایسا کوئی اثاثہ حاصل نہیں کیا جو الیکشن کمیشن کو جمع کروائے گئے فارمز میں موجود نہ ہو۔ ہم حکومت کو اپنے اثاثوں کی جانچ کا چیلنج دیتے ہیں۔”

تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف کاغذی ڈیکلریشن جمع کروا دینے سے اوقاف کی زمینوں اور کروڑوں کے اثاثوں کا حساب ختم ہو جاتا ہے؟

یہ ہمارے سیاسی نظام کا المیہ ہے کہ جب سیاستدان خود اقتدار میں ہوتے ہیں اور ان کے ہاتھ میں اختیارات کی باگ ڈور ہوتی ہے، تو وہ سرکاری املاک، اوقاف کی زمینوں اور عوامی ٹیکسوں کے پیسے کو اپنے ذاتی اور خاندانی مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی اقتدار کا سورج غروب ہوتا ہے یا ان پر کرپشن کے مقدمات کا گھیراؤ تنگ ہونے لگتا ہے، تو وہ مظلومیت کا کارڈ کھیل کر سیدھا ملک کے سلامتی اور احتسابی اداروں پر حملے شروع کر دیتے ہیں۔

جاوید ہاشمی کا اداروں کے خلاف حالیہ تند و تیز بیانیہ دراصل اپنے ماضی کی کرپشن، زمینوں کے ہیر پھیر اور اقتدار کے دور میں کی گئی بے ضابطگیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کی ایک ناکام کوشش نظر آتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : کے پی تعلیمی اسکینڈل: کروڑوں کے ٹیبلٹس کہاں غائب ہوئے؟ تحقیقات شروع، کمیٹی کو 3 دن میں رپورٹ دینے کا حکم

قوم اب ان دوہرے معیارات اور مفاد پرستی کی سیاست کو اچھی طرح پہچان چکی ہے؛ جب تک اقتدار کے دنوں میں سمیٹی گئی بے تحاشا دولت اور کرپشن کا حساب نہیں دیا جاتا، اداروں پر بکواس اور الزام تراشی سے ان کے ماضی کا داغدار چہرہ ہرگز صاف نہیں ہو سکتا!

editor

Related Articles