جاوید ہاشمی نے اوقاف کی زمین بھی نہ چھوڑی، کروڑوں روپے کی اراضی پر پہلے قبصہ کیا پھر فروخت کردی، کرپشن کے بے تاج بادشاہ کی کرپشن کہانی نے ہلا کر رکھ دیا

جاوید ہاشمی نے اوقاف کی زمین بھی نہ چھوڑی، کروڑوں روپے کی اراضی پر پہلے قبصہ کیا پھر فروخت کردی، کرپشن کے بے تاج بادشاہ کی کرپشن کہانی نے ہلا کر رکھ دیا

محکمہ اوقاف کی ملکیتی زمین ہتھیانے اور غیرقانونی طور پر فروخت کرنے کا سنگین الزام، زمین سے لاکھوں روپے حاصل کرنے کا دعویٰ، نیب تحقیقات میں اسلام آباد، ملتان اور مخدوم رشید کی جائیدادوں سمیت دیگر مبینہ اثاثوں کا معاملہ بھی سامنے آیا۔

محکمہ اوقاف کی زمین پر مبینہ قبضہ کرکے اسے فروخت کرنے اور اس ذریعے سے لاکھوں روپے کمانے کا الزام مخدوم جاوید ہاشمی کے خلاف سامنے آنے والے اہم کرپشن الزامات میں شامل ہے معاملے کی سنگینی اس پہلو سے بڑھ جاتی ہے کہ الزام محض زمین پر قبضے تک محدود نہیں تھا بلکہ اوقاف کی ملکیتی اراضی کو مبینہ طور پر فروخت کرکے مالی فائدہ اٹھانے کا بھی تھا۔

نیب سے متعلق سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق جاوید ہاشمی پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے محکمہ اوقاف کی زمین پر قبضہ کیا اور بعدازاں اسے غیرقانونی طور پر فروخت کرکے لاکھوں روپے حاصل کیے۔ اس معاملے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ اوقاف کی ملکیتی زمین پر قبضہ کس بنیاد پر کیا گیا، اسے فروخت کرنے کا اختیار کس کے پاس تھا اور اس مبینہ فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کہاں گئی۔

اوقاف کی زمین کسی فرد کی ذاتی ملکیت نہیں ہوتی۔ ایسی اراضی کے انتظام، استعمال اور منتقلی کے لیے قانونی اختیار اور مقررہ طریقۂ کار کی پابندی ضروری ہے۔ اگر کسی شخص نے ایسی زمین پر ناجائز قبضہ کرکے اسے فروخت کیا ہو تو معاملہ زمین کی غیرقانونی منتقلی کے ساتھ عوامی و مذہبی اوقاف کی املاک کے تحفظ اور ممکنہ مالی بے ضابطگی کا بھی بنتا ہے

جاوید ہاشمی سے متعلق اس معاملے میں سب سے اہم سوال زمین کی ملکیت اور فروخت کے طریقۂ کار کا ہے۔ الزام یہ تھا کہ محکمہ اوقاف کی زمین پہلے قبضے میں لی گئی اور پھر اسے غیرقانونی طور پر فروخت کرکے لاکھوں روپے کمائے گئے۔ اس نوعیت کے معاملے میں زمین کا اصل ریکارڈ، محکمہ اوقاف کی ملکیت کی دستاویزات، قبضے کی نوعیت، فروخت کے کاغذات اور رقم کی منتقلی کی تفصیلات فیصلہ کن اہمیت رکھتی ہیں۔

تاہم دستیاب معلومات میں زمین کا درست مقام، رقبہ، قبضے اور فروخت کی تاریخ، خریداروں کے نام اور حاصل ہونے والی رقم کی حتمی مقدار درج نہیں۔ اسی طرح یہ تفصیل بھی موجود نہیں کہ زمین کی فروخت کس دستاویز کے ذریعے کی گئی یا اس معاملے میں کسی عدالتی فیصلے کا کیا نتیجہ نکلا۔ اس لیے ان مخصوص تفصیلات کو مصدقہ حقائق کے طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا۔

اس کے باوجود اوقاف کی زمین پر قبضے اور اسے فروخت کرنے کا الزام اپنی نوعیت کے اعتبار سے سنگین ہے، کیونکہ اس میں عوامی و اوقاف کی ملکیت کو مبینہ طور پر ذاتی مالی فائدے کے لیے استعمال کرنے کا سوال اٹھتا ہے۔

نیب سے متعلق تفصیلات میں بتایا گیا تھا کہ جاوید ہاشمی کے خلاف اس معاملے کی تحقیقات مکمل کر لی گئی تھیں اور کیس احتساب عدالت بھیجنے کی تیاری کی جا رہی تھی۔ یہ الزام معلوم ذرائع آمدن سے زائد اثاثوں کے ایک الگ مقدمے سے متعلق نہیں بلکہ اوقاف کی زمین پر مبینہ قبضے اور فروخت کے حوالے سے ایک نئے کرپشن کیس کے طور پر بیان کیا گیا تھا۔

اس معاملے کی مکمل حقیقت جاننے کے لیے یہ واضح ہونا ضروری ہے کہ تحقیقات کے بعد مقدمہ عدالت میں دائر ہوا یا نہیں، زمین کی ملکیت اور فروخت کے حوالے سے کیا دستاویزات پیش کی گئیں اور متعلقہ کارروائی کا حتمی نتیجہ کیا نکلا۔ دستیاب معلومات ان سوالات کا مکمل جواب نہیں دیتیں۔

اوقاف کی زمین کے معاملے کے علاوہ جاوید ہاشمی پر اسلام آباد اور ملتان میں مکانات، آبائی گاؤں مخدوم رشید میں تین مکانات، تقریباً 500 ایکڑ زرعی زمین، ایک کاٹن فیکٹری، ایک آئل مل اور متعدد گاڑیاں غیرقانونی ذرائع سے حاصل کرنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے تھے۔ معلوم ذرائع آمدن سے زائد اثاثوں کے ایک الگ مقدمے کا ذکر بھی موجود تھا۔

تاہم اس معاملے کا مرکزی نکتہ اوقاف کی زمین پر مبینہ قبضہ اور اس کی فروخت ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اوقاف کی ملکیتی اراضی کس طرح قبضے میں لی گئی، اسے کس طریقے سے فروخت کیا گیا اور اس سے حاصل ہونے والی رقم کا کیا بنا۔ ان سوالات کا جواب متعلقہ زمین کے ریکارڈ، فروخت کی دستاویزات اور عدالتی کارروائی سے ہی سامنے آ سکتا ہے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles