کیچڑ میں دوڑنے اور درختوں پر چڑھنے والی مچھلی کی دلچسپ کہا

کیچڑ میں دوڑنے اور درختوں پر چڑھنے والی مچھلی کی دلچسپ کہا

قدرت نے دنیا میں ایسے کئی عجیب و غریب جاندار تخلیق کیے ہیں جو سائنس دانوں کو بھی حیران کر دیتے ہیں۔ انہی میں ایک مچھلی مڈسکیپر بھی ہے، جو عام مچھلیوں کے برعکس پانی سے باہر خشکی پر بھی سرگرم رہ سکتی ہے۔

مڈسکیپر ساحلی دلدلی علاقوں میں پائی جاتی ہے اور اپنے مضبوط چھاتی کے پروں کی مدد سے کیچڑ پر حرکت کرتی، اچھلتی اور ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچتی ہے۔ اس کی حیرت انگیز صلاحیت یہیں ختم نہیں ہوتی، کیونکہ بعض اقسام منگرووز کے درختوں کی جڑوں اور نچلی شاخوں پر بھی چڑھ سکتی ہیں۔

آخر یہ مچھلی پانی کے بغیر سانس کیسے لیتی ہے؟

اس کا راز اس کے جسم کی خاص ساخت میں چھپا ہے۔ مڈسکیپر اپنے گلپھڑوں میں نمی برقرار رکھتی ہے اور اس کی نم جلد بھی آکسیجن جذب کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اسی وجہ سے یہ مناسب نمی والے ماحول میں پانی سے باہر بھی کافی دیر تک زندہ رہ سکتی ہے۔ تاہم، اس کی بقا کا انحصار ماحول اور نمی کی سطح پر ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :پتھر کے اندر چھپی زندگی، افریقہ کے صحرا کا انوکھا قدرتی عجوبہ

اس کی آنکھیں سر کے اوپری حصے میں ابھری ہوئی ہوتی ہیں، جس سے اسے اپنے اردگرد کے ماحول پر نظر رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ یہ مچھلی دلدلی زمین پر خوراک تلاش کرتی، چھوٹے جانداروں کا شکار کرتی اور اپنے علاقے کا دفاع بھی کرتی ہے۔

مڈسکیپر اس بات کی ایک حیرت انگیز مثال ہے کہ قدرت نے جانداروں کو مختلف ماحول میں زندہ رہنے کے لیے کس قدر منفرد صلاحیتیں عطا کی ہیں۔ یہ مچھلی پانی اور خشکی کے درمیان زندگی گزارنے کا ایسا انداز پیش کرتی ہے جو اسے دیگر مچھلیوں سے نمایاں بناتا ہے۔

editor

Related Articles