دنیا بھر میں ویب سائٹس چلانے کے لیے استعمال ہونے والی پروگرامنگ لینگویج پی ایچ پی میں سکیورٹی کی 2 سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جس کے باعث لاکھوں ویب سائٹس اور آن لائن سسٹمز کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ سکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ان خامیوں کو استعمال کرکے حملہ آور متاثرہ ویب سرورز پر نقصان دہ کوڈ چلا سکتے ہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق، دونوں خامیوں کی شدت 10 میں سے 9.2 درج کی گئی ہے، جو انہیں انتہائی سنگین سکیورٹی خطرہ بناتی ہے۔ پی ایچ پی کے منتظمین ان خامیوں کو دور کرنے کے لیے سکیورٹی اپ ڈیٹس جاری کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، جبکہ ویب سائٹ انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپ ڈیٹس دستیاب ہوتے ہی انہیں انسٹال کرنے کے لیے تیار رہے۔
ایک سکیورٹی محقق کے تخمینے کے مطابق، ان خامیوں سے تقریباً 13 لاکھ انٹرنیٹ سے منسلک سسٹمز متاثر ہو سکتے ہیں۔ پی ایچ پی دنیا بھر میں ویب سائٹس اور ویب ایپلی کیشنز بنانے کے لیے استعمال ہوتی ہے اور ورڈپریس سمیت کئی معروف پلیٹ فارمز اسی ٹیکنالوجی پر انحصار کرتے ہیں۔
اگر حملہ آور ان خامیوں سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو متاثرہ سرورز پر غیر مجاز کوڈ چلانے اور ویب سائٹس کی سکیورٹی کو نقصان پہنچانے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
اپ ڈیٹ جاری ہوتے ہی حملوں کا خدشہ
سکیورٹی کمپنی سین سیک نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سکیورٹی پیچ جاری ہونے کے صرف 15 منٹ کے اندر بڑے پیمانے پر سائبر حملے شروع ہو سکتے ہیں۔ ورڈفینس اور ہنٹریس سمیت دیگر سکیورٹی اداروں نے بھی ویب سائٹ منتظمین کو پیشگی تیاری کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق، ویب سائٹ انتظامیہ کو پہلے ہی معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے سسٹمز میں پی ایچ پی کا کون سا ورژن استعمال ہو رہا ہے اور اپ ڈیٹس انسٹال کرنے کا ذمہ دار کون ہے۔ اس کے ساتھ ویب سائٹس اور ڈیٹا بیس کا بیک اپ بنانے اور سرکاری اعلانات پر نظر رکھنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔
لیک ہونے والے ڈیمو نے خطرے کی تشویش بڑھا دی
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان خامیوں سے متعلق کچھ غیر مصدقہ تفصیلات آن لائن لیک ہوئی تھیں۔ مبینہ طور پر ان میں پی ایچ پی 2 شیل نامی ایک ٹول کی ویڈیو بھی شامل تھی، جس کے ذریعے ویب سرور پر کوڈ چلایا جا سکتا ہے۔
دعویٰ کیا گیا کہ اس ٹول کو ورڈپریس، میڈی وکی، جوملا، میگینٹو، ڈروپل اور دیگر پی ایچ پی پر مبنی پلیٹ فارمز کے خلاف آزمایا گیا۔ تاہم، لیک ہونے والی اصل رپورٹ دستیاب نہ ہونے کے باعث ان تفصیلات کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
سکیورٹی کمپنی واچ ٹاور کے مطابق، دونوں خامیوں کے حقیقی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ رپورٹ میں ان کے شناختی نمبر CVE-2026-109618 اور CVE-2026-109619 بھی دیے گئے ہیں۔
پی ایچ پی کے منتظمین نے عندیہ دیا ہے کہ اگر خامیوں کی تفصیلات عام ہو گئیں یا ان کا عملی استحصال شروع ہو گیا تو سکیورٹی اپ ڈیٹس مقررہ وقت سے پہلے بھی جاری کی جا سکتی ہیں۔
ویب سائٹ مالکان کے لیے اہم ہدایت
پی ایچ پی کی سرکاری ویب سائٹ پر سکیورٹی اعلانات ملاحظہ کریں اور متعلقہ اپ ڈیٹس دستیاب ہوتے ہی انسٹال کریں۔ اس خبر میں بیان کردہ بعض تفصیلات تاحال غیر مصدقہ ہیں، اس لیے تازہ ترین معلومات کے لیے سرکاری اعلانات کو ترجیح دی جانی چاہیے۔