جاوید ہاشمی سیاسی اصولوں، جمہوریت پسندی اور اخلاقی اقدار کی بات کرتے ہیں، لیکن ان کے سیاسی ماضی سے جڑا ایک ایسا معاملہ ہے جس پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں، یہ وہ رہنما ہیں جو آج قومی اور احتسابی اداروں پر تنقید کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے، ان کے اپنے دورِ اقتدار اور ماضی کے کھاتے یہ بتاتے ہیں کہ اصولوں اور اخلاقیات کی تمام تر باتیں صرف کیمروں اور تقریروں کی حد تک ہی محدود رہی ہیں۔
پاکستان کے موقر اخبار میں شائع ایک رہورٹ میں 2008ء سے 2013ء کے دورِ حکومت میں، خصوصاً سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی چھتری تلے، وزراء، پارلیمنٹرینز اور بیوروکریٹس کو محض ذیابیطس، کمر درد، بخار، اسپیچ تھراپی اور اینجیوپلاسٹی جیسے عام اور مقامی سطح پر قابلِ علاج امراض کے لیے امریکہ، برطانیہ اور جرمنی کے مہنگے ترین اسپتالوں میں سرکاری خرچے پر بھیجا گیا اور اس میں اصولوں کے داعی جاوید ہاشمی کا نام بھی سامنے آیا ہے ۔
سیاست میں بلند و بانگ دعوے کرنے اور خود کو جمہوریت کا سب سے بڑا چیمپئن کہلوانے والے رہنماؤں کی اصلیت صرف اختیارات کے ایوانوں تک ہوتی ہے ، جب ملک کے اندر عام آدمی علاج کی سہولتوں کو ترس رہا ہو، تب یہی نام نہاد رہنما سرکاری خزانے سے لاکھوں پاؤنڈز اور ڈالرز کی مراعات سمیٹ کر غیر ملکی اسپتالوں میں عیاشیاں کرتے ہیں۔
جاوید ہاشمی کا سرکاری خرچ پر لندن میں علاج
رپورٹ کے مطابق 2010ء میں اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے مخدوم جاوید ہاشمی کو برطانیہ میں بحالی اور اسپیچ تھراپی (بولنے کی صلاحیت کی بحالی) کے لیے 30,000 پاؤنڈز (جو پاکستانی روپوں میں لاکھوں کی رقم بنتی ہے) کی منظوری دی ، رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم کے دفتر سے منظوری ملنے کے بعد غیر ملکی اسپتالوں کے بلوں کی ادائیگی کی گئی، کیونکہ وزیراعظم کو ان لوگوں کے میڈیکل بل منظور کرنے کا اختیار حاصل تھا جو پاکستان میں علاج نہیں کرا سکتے تھے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جب مالیات ڈویژن نے جاوید ہاشمی کے اس مہنگے ترین غیر ملکی علاج کے لیے رقم منظور کی، تو وہ مسلم لیگ (ن) کا حصہ تھے یعنی سیاسی پینترابازی بھی مخدوم جاوید ہاشمی کا خاصہ رہی ہے جس حکومت میں بیٹھے وہیں بہتی گنگا میں ہاتھ دھو ڈالے ۔
اگرچہ اس حوالے سے بعد میں مختلف نوعیت کے بیانات بھی سامنے آئے اور حیلے بہانے صفائیاں بھی پیش کی گئیں، لیکن یہ ریکارڈ اس بات کا ثبوت ہے کہ انہوں نے کس طرح اپنے ذاتی آرام اور علاج کے لیے ملکی خزانے کو استعمال کیا ، جس بیماری کے علاج کے لیے لاکھوں پاؤنڈز کے فنڈز بیرونِ ملک جاری کیے گئے درحقیقت طبی ماہرین کے مطابق ان تمام امراض کا علاج پاکستان کے اندر انتہائی شاندار طریقے سے دستیاب تھا۔
لیکن جواب دہی کا سوال اپنی جگہ موجود ہے ، جاوید ہاشمی اگر جمہوریت، شفافیت اور اخلاقی سیاست کے چیمپئن ہیں تو انہیں اپنے سیاسی ماضی سے متعلق اس معاملے پر اپنا مؤقف واضح طور پر بیان کرنا چاہیے ، سرکاری خرچ پر علاج کروانا اس کی تفصیلات اور دستیاب معلومات عوام تک پہنچانا چاہیے کہ آخر اتنی اصول پسندی کے جھنڈے جو گاڑے جاتے ہیں اس میں قوم کے پیسوں کا حساب کون دے گا ؟
پاؤنڈز سمیٹ کر اداروں پر ہرزہ سرائی
جاوید ہاشمی کا یہ وطیرہ بن گیا ہے کہ جیسے ہی موقع ملتا ہے کرپشن ہی نہیں ، قومی اداروں کیخلاف زہر افشانی بھی کردیتے ہیں اداروں پر بے بنیاد تنقید کے تیر برساتے ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو سیاستدان خود اپنے دورِ اقتدار میں سرکاری خزانے سے پاؤنڈز اور ڈالرز کی مراعات سمیٹتے رہے ہوں، انہیں آج اداروں کی غیر جانبدارانہ کارروائیوں پر انگلی اٹھانے کا کیا اخلاقی حق حاصل ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ اداروں کے خلاف یہ حالیہ ہرزہ سرائی کوئی نظریاتی جدوجہد نہیں، بلکہ اپنے ماضی کی انھی عیاشیوں، سرکاری فنڈز کے استعمال اور بے ضابطگیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کا ایک حربہ ہے۔
قوم اب ان تمام چہروں کو اچھی طرح پہچان چکی ہے جو اقتدار میں رہ کر ملکی وسائل پر ہاتھ صاف کرتے ہیں اور جب ان کے ماضی کے کھاتے کھولے جائیں تو مظلومیت کا ناٹک رچا کر اداروں کی ہرزہ سرائی کرتے ہیں ، اصولوں کا پرچار کرنے والوں کو پہلے اپنے اس ماضی کا حساب دینا ہوگا جہاں سرکاری پیسوں پر غیر ملکی عیاشیاں کی گئی تھیں!