کمسن بچی کو بلیک میل اور نازیبا تصاویر شیئر کرنے کا جزم ثابت، اسلام آباد عدالت نے 2 ملزمان کو بڑی سزا سنا دی

کمسن بچی کو بلیک میل اور نازیبا تصاویر شیئر کرنے کا جزم ثابت، اسلام آباد عدالت نے 2 ملزمان کو بڑی سزا سنا دی

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس نے 12 سالہ کمسن بچی کو بلیک میل کرنے اور نازیبا تصاویر شیئر کرنے کے ملزمان کو جرم ثابت ہونے پر مجموعی طور پر 10، 10 سال قید اور 20 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی ہے۔

اسلام آباد کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ کی عدالت نے سائبر کرائم اور بلیک میلنگ کیس کا محفوظ فیصلہ سنایا۔ عدالت نے محتاط سماعت اور پیش کردہ دلائل و شواہد کا تفصیلی جائز جائزہ لینے کے بعد دونوں نامزد ملزمان کو قصوروار قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی کا عدالتی حکم پر عملدرآمد کے لیے بڑا فیصلہ

عدالتی فیصلے کے مطابق پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کی سیکشن 22 کے تحت دونوں ملزمان کو 7، 7 سال قید اور 10، 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا کا حکم دیا گیا۔

جبکہ اسی ایکٹ کی سیکشن 24 کے تحت عدالت نے دونوں مجرموں کو مزید 3، 3 سال قید اور 10، 10 لاکھ روپے الگ سے جرمانے کی سزا سنائی۔

یوں دونوں ملزمان کو مجموعی طور پر 10، 10 سال قیدِ سخت اور کل 20 لاکھ روپے (10، 10 لاکھ فی کس) جرمانہ ادا کرنا ہو گا۔

مقدمے کا اندراج اور سائبر کرائم ایجنسی کی کارروائی

اس افسوسناک واقعے کی ابتدائی رپورٹ اور مقدمہ متاثرہ 12 سالہ کمسن بچی کے والد کی مدعیت میں این سی سی آئی اے (نیشنل کاؤنٹر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی) کے پاس درج کرایا گیا تھا۔

مدعی مقدمہ نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ملزمان نے ان کی بیٹی کی غیر اخلاقی اور نازیبا تصاویر حاصل کر کے اسے بلیک میل کرنا شروع کیا اور بعد ازاں ان تصویروں کو سوشل میڈیا پر شیئر کر کے بچی اور اس کے خاندان کو شدید ذہنی اور نفسیاتی اذیت میں مبتلا کیا۔ ایجنسی نے فوری تکنیکی کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر کے چالان عدالت میں پیش کیا تھا۔

ڈیجیٹل دور میں پاکستان کے اندر کمسن بچوں اور بالخصوص لڑکیوں کو آن لائن ہراساں کرنے، بلیک میلنگ اور بلیک میل کے ذریعے نازیبا مواد وائرل کرنے کے واقعات میں روز بروز اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

ان سائبر جرائم کی روک تھام کے لیے حکومت نے الیکٹرانک کرائمز ایکٹ نافذ کیا تھا تاکہ این سی سی آئی اے اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ایسے نیٹ ورکس اور مجرموں کا سراغ لگا کر انہیں قانون کے کٹہرے میں لا سکیں۔

مزید پڑھیں:پاک افغان سرحد پر دہشت گردوں کی دراندازی ناکام، افغان طالبان کا سوشل میڈیا پر جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

آن لائن سائبر جرائم اور بچوں کی بلیک میلنگ جیسے سنگین اور حاسس معاملے پر عدلیہ کی جانب سے اتنی سخت سزاؤں کا اعلان ایک خوش آئند اور مثبت پیش رفت ہے۔

اس نوعیت کے عبرتناک فیصلے نہ صرف جرائم پیشہ عناصر اور بالخصوص سائبر کرائم میں ملوث افراد کے لیے ایک تازیانے کا کام کریں گے بلکہ یہ معاشرے میں خوف کے خاتمے کا باعث بھی بنیں گے۔

جب ریاست اور انصاف فراہم کرنے والے ادارے مظلوم خاندانوں کی پشت پر کھڑے ہوں گے اور مقدمات کا فیصلہ بلا تاخیر شواہد کی بنیاد پر کریں گے تو اس سے سائبر سپیس میں بچوں اور خواتین کی حفاظت کا تحفظ مزید مضبوط اور یقینی ہو سکے گا۔

Related Articles