پاکستان ریلوے میں 4 سال کے دوران ٹرینیں پٹری سے اترنے کے 349 واقعات

پاکستان ریلوے میں 4 سال  کے دوران ٹرینیں پٹری سے اترنے کے 349 واقعات

پاکستان ریلوے میں 2022 سے ستمبر 2026 تک ٹرینوں کے پٹری سے اترنے کے 349 واقعات رپورٹ ہوئے، جن کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کر دی گئی ہیں۔ پاکستان ریلوے کی رپورٹ کے مطابق ان واقعات کی سب سے بڑی وجہ ریلوے ٹریک میں نقص یا خرابی بنی، جس کے باعث 120 واقعات پیش آئے، جبکہ ریلوے عملے کی غلطی سے 95 واقعات رپورٹ ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق 2022 میں ٹرینوں کے پٹری سے اترنے کے 42 واقعات پیش آئے، 2023 میں یہ تعداد 58، 2024 میں 95 اور 2025 میں 93 رہی۔ ستمبر 2026 تک ایسے 61 واقعات رپورٹ ہوئے۔

پاکستان ریلوے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رولنگ اسٹاک کی خرابی کے باعث 64 حادثات پیش آئے، جبکہ سگنل اور انٹرلاکنگ کے مسائل سے 18 واقعات منسلک تھے۔ دہشت گردی اور تخریب کاری کے باعث 13 واقعات پیش آئے۔ اس کے علاوہ 26 واقعات میں متعدد وجوہات سامنے آئیں، 10 واقعات قدرتی آفات، 2 برقی خرابی اور ایک واقعہ سڑک استعمال کرنے والوں کے باعث پیش آیا۔

رپورٹ کے مطابق ٹرینوں کے پٹری سے اترنے کے تمام 349 واقعات کی تحقیقات شروع کی گئیں، جن میں سے 331 مکمل ہو چکی ہیں۔ سال 2022 کے تمام 42 واقعات، 2023 کے 58 میں سے 56، سال 2024 کے تمام 95 اور 2025 کے 93 میں سے 89 واقعات کی تحقیقات مکمل کی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں: ریلوے پنشنرز کو  پروف آف لائف سرٹیفکیٹ  ڈیجیٹل سہولت کب ملے گی؟ نادرا نے بڑا اعلان کر دیا

ستمبر 2026 تک پیش آنے والے 61 واقعات میں سے 49 کی تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں، جبکہ 12 کی تحقیقات زیر التوا ہیں۔

پاکستان ریلوے کے مطابق ان 349 واقعات سے متعلق 229 مقدمات مکمل کیے جا چکے ہیں، جبکہ 120 مقدمات زیر التوا ہیں۔ سال 2026 میں ستمبر تک رپورٹ ہونے والے 61 واقعات سے متعلق 51 مقدمات زیر التوا ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹرینوں کے پٹری سے اترنے کے واقعات کی روک تھام کے لیے سیفٹی ڈائریکٹوریٹ قائم کیا گیا ہے اور ریلوے اسٹیشنوں اور حفاظتی نظام کو بہتر بنانے کے اقدامات جاری ہیں۔ ریلوے کراسنگ کے خطرات سے عوام کو آگاہ کرنے کے لیے مہم چلائی جا رہی ہے، حفاظتی بورڈز نصب کیے جا رہے ہیں اور عملے کی تربیت کا انتظام بھی کیا جا رہا ہے۔

پاکستان ریلوے کے مطابق غیر محفوظ ریلوے کراسنگز کو محفوظ بنانے، معائنے اور غفلت کے مرتکب افسران و اہلکاروں کے خلاف انضباطی کارروائی کے اقدامات بھی جاری ہیں۔

Related Articles