عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ قیمتوں میں کمی کی بڑی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال ہونے کی امیدیں ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے بعد سرمایہ کاروں کو توقع ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان بھی جنگ بندی کے لیے پیش رفت ہو سکتی ہے۔ اس پیش رفت سے عالمی منڈی میں تیل کی رسد بہتر ہونے اور قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت میں 3.20 ڈالر، یعنی 3.27 فیصد کمی ہوئی، جس کے بعد قیمت 94.61 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔ اسی طرح امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت 3.71 ڈالر، یعنی 3.86 فیصد کمی کے بعد 92.31 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔
دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کا مؤقف اختیار کیا ہے۔ اس اہم سمندری گزرگاہ پر کشیدگی اور جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹوں نے عالمی توانائی کی منڈی کو متاثر کیا ہے۔ جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی رسد اسی راستے سے گزرتی تھی، جس کے باعث آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی تیل کی قیمتوں کے لیے غیرمعمولی اہمیت رکھتی ہے۔
باب المندب میں حوثیوں کی سرگرمیوں اور سعودی عرب میں مختلف اہداف پر حملوں کے باعث تیل کی پیداوار اور ترسیل سے متعلق خدشات بھی برقرار ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کا خطرہ موجود ہے۔
ماہرین کی توجہ اب امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ پیش رفت، آبنائے ہرمز میں جہازرانی کی بحالی اور خطے میں جنگ بندی کے امکانات پر مرکوز ہے۔ اگر کشیدگی میں کمی آتی ہے اور تیل کی ترسیل معمول پر بحال ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے، تاہم صورتِ حال میں کسی نئی خرابی سے قیمتوں میں دوبارہ اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔