جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے سیاسی کردار، کشمیر کمیٹی کی سربراہی اور جائیدادوں کے معاملے پر ایک بار پھر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں،چمن کے شہریوں کی جانب سے ان کے اثاثوں کی تفصیلات سامنے لانے اور مالی معاملات کا حساب دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے شہریوں کا مؤقف ہے کہ عوامی عہدوں پر رہنے والے سیاسی رہنماؤں کے اثاثوں، آمدن اور جائیدادوں سے متعلق معلومات واضح ہونی چاہییں تاکہ عوام کو معلوم ہو سکے کہ ان کے مالی وسائل کہاں سے آئے اور ان میں اضافہ کیسے ہوا۔
فضل الرحمٰن طویل عرصے سے ملکی سیاست میں سرگرم ہیں وہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ ہونے کے ساتھ ساتھ پارلیمانی سیاست میں بھی اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
ان کی سیاسی سرگرمیوں، حکومتی اتحادوں میں شمولیت اور مختلف آئینی معاملات پر مؤقف کے باعث ان کا نام اکثر سیاسی بحث کا حصہ بنتا رہا ہے۔
فضل الرحمٰن 2008 سے 2018 تک پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے اس عرصے میں مسئلہ کشمیر پاکستان کی خارجہ پالیسی اور پارلیمانی سرگرمیوں کا اہم موضوع رہا، جبکہ کمیٹی کی کارکردگی اور اخراجات بھی سیاسی مباحث میں زیرِ بحث آتے رہے۔
دسمبر 2020 میں کشمیر کمیٹی کے اس وقت کے چیئرمین شہریار خان آفریدی نے فضل الرحمٰن کے دورِ سربراہی کے دوران کمیٹی کے اجلاسوں اور اخراجات کے اعدادوشمار پیش کیے تھے ن کے بیان کے مطابق اس عرصے میں کمیٹی کے 24 اجلاس ہوئے اور مختص رقم کا بڑا حصہ خرچ کیا گیا۔
اس معاملے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ کمیٹی پر خرچ ہونے والے سرکاری وسائل کے مقابلے میں مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے اور ان کے کیا نتائج سامنے آئے کمیٹی کی کارروائیوں، اجلاسوں، دوروں اور اخراجات کی تفصیلات اس حوالے سے اہمیت رکھتی ہیں فضل الرحمان جواب نہیں دینا چاہتے ۔
مولانا فضل الرحمٰن کے اثاثوں اور جائیدادوں کا معاملہ بھی دسمبر 2020 میں سیاسی بحث کا موضوع بنا تھا۔ اس وقت حکومتی نمائندوں کی جانب سے ان سے منسوب جائیدادوں کی تفصیلات سامنے لائی گئی تھیں، جن میں ڈیرہ اسماعیل خان میں مکانات اور زمین، اسلام آباد میں رہائشی جائیداد اور بیرونِ ملک جائیداد سے متعلق معاملات کا ذکر کیا گیا تھا۔
اب چمن کے شہریوں کی جانب سے اثاثوں کی تفصیلات سامنے لانے کے مطالبے کا مرکزی نکتہ یہی ہے کہ عوامی زندگی میں سرگرم سیاسی رہنماؤں کے مالی معاملات میں شفافیت ہونی چاہیے۔
جائیدادوں کی ملکیت، آمدن کے ذرائع اور اثاثوں میں اضافے کی تفصیلات سامنے آنے سے عوامی سطح پر اٹھنے والے سوالات کا جواب دیا جا سکتا ہے۔دسمبر 2020 میں قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے بھی مولانا فضل الرحمٰن کو اثاثوں سے متعلق معاملے پر نوٹس جاری کیے جانے کی خبریں سامنے آئی تھیں۔
مولانا فضل الرحمٰن کا نام 26ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے ہونے والی سیاسی بحث میں بھی نمایاں رہا اور اس حوالے سے دعوی کیا جارہا ہے فضل الرحمان نے ملک ریاض سے اربوں روپے لے کر ترمیم کی حمایت کی تھی ۔
چمن کے شہریوں کی جانب سے سامنے آنے والے مطالبے کے مطابق سیاسی رہنماؤں کے اثاثوں کی تفصیلات عوام کے سامنے ہونی چاہییں،شہریوں نے سوال کیا کہ فضل الرحمان نے کشمیر کمیٹی کی چیئر مین شپ سے لے کر دیگر دور سیاست میں اثاثے کیسے بنائے اس کا جواب دیا جائے ۔
مولانا فضل الرحمٰن کے معاملے میں بھی کشمیر کمیٹی کی سربراہی، سرکاری اخراجات، اثاثوں کی تفصیلات اور سیاسی فیصلوں پر ہونے والی بحث کو ختم کرنے کے لیے فضل الرحمان کو اس کا جواب دینا پڑے گا یا پھر احتساب ہونا چاہیے کیونکہ فضل الرحمان عوامی نمائندہ ہونے کا دعوی کرتے تو پھر جب عوام سوال کریں تو جواب بھی دیا جائے ۔