چین کے علاقے تبت میں 7 شدت کے زلزلے نے تباہی مچا دی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کم از کم 16 افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوگئے ہیں۔ زلزلے کے بعد متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں شروع کردی گئی ہیں۔
زلزلے میں 32 افراد زخمی بھی ہوئے۔ ان میں سے 11 کی حالت تشویش ناک بتائی گئی، جبکہ 21 افراد کو معمولی چوٹیں آئیں۔
زلزلے کا مرکز شمالی تبت کے ناگچو علاقے کی باچن کاؤنٹی میں تھا۔ چینی زلزلہ نیٹ ورک مرکز کے مطابق زلزلے کی گہرائی تقریباً 10 کلومیٹر تھی۔
زلزلے کے مرکز کے قریب واقع بعض دیہات میں مکانات کو نقصان پہنچا۔ کچھ عمارتوں کی دیواروں میں دراڑیں پڑ گئیں جبکہ متعدد مکانات منہدم ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔
زلزلے کے بعد مقامی شہری اپنے گھروں سے باہر نکل آئے۔ سرکاری میڈیا کی جاری کردہ ویڈیوز میں لوگوں کو کھلی جگہوں اور سڑکوں پر کھڑی گاڑیوں میں پناہ لیتے دیکھا گیا۔
شدید زلزلے کے بعد اردگرد کے علاقوں میں 3 اور 4 شدت کے مزید جھٹکے بھی ریکارڈ کیے گئے۔ ماہرین انہیں آفٹر شاکس قرار دیتے ہیں، جو بڑے زلزلے کے بعد آس پاس کے علاقوں میں محسوس ہوسکتے ہیں۔
زلزلے کا مرکز تبت کے دارالحکومت لہاسا سے تقریباً 400 کلومیٹر دور تھا۔ یہ بلند پہاڑی خطہ کم آبادی والا ہے، تاہم مرکز کے قریب واقع آبادیوں میں نقصان کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ جنوری 2024 کے بعد چین میں ریکارڈ ہونے والا سب سے شدید زلزلہ ہے۔ امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں
زلزلے کے بعد مقامی انتظامیہ نے ہنگامی اقدامات شروع کیے ہیں۔ امدادی ٹیموں کی توجہ متاثرہ بستیوں تک پہنچنے، زخمیوں کی مدد اور عمارتوں کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لینے پر ہے۔