بلوچستان کے ضلع خضدار اور اس کے گردونواح میں 5.9 شدت کے زلزلے کے بعد شدید خوف و ہراس پھیل گیا، جہاں شہری کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے کھلے آسمان تلے باہر نکل آئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بلوچستان کے اہم ضلع خضدار اور اس کے اطراف کے علاقوں میں زمین اچانک زور دار جھٹکوں سے لرز اٹھی۔
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق اس زلزلے کی ریکٹر اسکیل پر شدت 5.9 ریکارڈ کی گئی۔ زمین کی گہرائی کے حوالے سے زلزلہ پیما مرکز نے بتایا کہ ارتعاش 25 کلومیٹر کی گہرائی تک محسوس کیا گیا، جبکہ زلزلے کا مرکز خضدار سے تقریباً 48 کلومیٹر شمال مغرب کی سمت میں واقع تھا۔
اتنی گہرائی اور شدت کے ساتھ آنے والے جھٹکوں کی وجہ سے وسیع علاقے میں لہریں محسوس کی گئیں جس سے فضا میں سنسنی پھیل گئی۔
عوامی ردعمل اور ہنگامی کیفیت
اچانک آنے والے ان شدید جھٹکوں نے شہریوں کو سہم کر رکھ دیا۔ زلزلے کے جھٹکے جیسے ہی محسوس ہوئے، گھروں، دفاتر اور تجارتی مراکز میں موجود افراد کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے خوف کے عالم میں تیزی سے باہر نکل آئے۔
دکانوں اور مارکیٹوں میں بھی افراتفری کی کیفیت بن گئی کیونکہ لوگ اپنی جان بچانے کے لیے کھلے مقامات اور سڑکوں کی طرف دوڑ پڑے۔
خوش قسمتی سے ابتدائی طور پر کسی بھی جانی یا مالی نقصان کی فوری اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم خوف و ہراس کی فضا کافی دیر تک برقرار رہی۔
زلزلہ خیزی کا پس منظر اور ساختی تقاضے
بلوچستان کا یہ خطہ ارضیاتی لحاظ سے فالٹ لائنز کے انتہائی قریب ہونے کی وجہ سے حساس اور زلزلہ خیز زون میں شمار ہوتا ہے۔
ماضی میں بھی اس خطے میں کئی بڑے زلزلے آ چکے ہیں جنہوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ اس پس منظر میں 5.9 شدت کا یہ زلزلہ اس بات کی واضح یاد دہانی ہے کہ یہاں تعمیر ہونے والی رہائشی اور تجارتی عمارات میں زلزلہ برداشت کرنے کی صلاحیت (سزمک ریزسٹنس) کا ہونا کتنا لازمی ہے۔
جب تک عمارتوں کو مضبوط انجینئرنگ کے اصولوں کے مطابق تعمیر نہیں کیا جائے گا، اس قسم کی قدرتی آفات بڑے خدشات کو جنم دیتی رہیں گی۔
ارضیاتی ساخت کے اعتبار سے اس پورے خطے میں ٹیکٹونک پلیٹس کا دباؤ مسلسل بنتا رہتا ہے، جو وقتاً فوقتاً ایسے درمیانی سے لے کر شدید درجے کے زلزلوں کی صورت میں خارج ہوتا ہے۔
اس نوعیت کے زلزلے اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ مقامی انتظامیہ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے اداروں اور متعلقہ محکموں کو ہمیشہ ہائی الرٹ حالت میں رہنا چاہیے۔
عمارات کے معیار کی سخت مانیٹرنگ، تعلیمی اداروں اور اسپتالوں میں ہنگامی انخلا کی باقاعدہ مشقیں، اور عوام میں اس حوالے سے شعور بیدار کرنے کا تسلسل ایسے ناگزیر اقدامات ہیں جو کسی بھی ہنگامی صورتحال میں نقصانات کو کم سے کم رکھنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔