امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کا امکان ظاہر کردیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ امریکا ایران کو پہلے ہی شدید نقصان پہنچا چکا ہے اور مزید کارروائی بھی کرسکتا ہے۔
ٹرمپ کے بیان سے ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں اضافے کا خدشہ دوبارہ نمایاں ہوگیا ہے۔ تاہم صدر نے کسی نئے حملے کی حتمی تاریخ یا مخصوص ہدف کا اعلان نہیں کیا۔
مزید کارروائی کا اشارہ
صحافیوں نے ٹرمپ سے سوال کیا کہ ایران کے ساتھ تنازع امریکی وسط مدتی انتخابات میں ووٹروں کی رائے پر کیا اثر ڈال سکتا ہے۔ صدر نے کہا کہ کچھ لوگ ان کے اقدامات کو پسند کرسکتے ہیں، جبکہ دوسرے اس پر ناخوش بھی ہوسکتے ہیں۔
ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ ایران کے خلاف کارروائی کی سیاسی قیمت ہوسکتی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔
امریکی صدر اس سے پہلے ایران کے ساتھ مذاکرات کی تردید بھی کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت نہیں ہورہی اور تنازع کے بارے میں جلد کوئی پیش رفت سامنے آسکتی ہے۔
انتخابات کے بعد حملوں کا منصوبہ؟
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر ممکنہ نئے حملوں کے منصوبے تیار کیے ہیں۔
رپورٹ میں امریکی حکام اور منصوبہ بندی سے واقف افراد کے حوالے سے بتایا گیا کہ دونوں ممالک کی افواج نے ممکنہ کارروائی کے لیے فوجی مشقیں تیز کردی ہیں۔ ان مشقوں میں عراق کے اوپر پروازیں بھی شامل بتائی گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ممکنہ اہداف میں ایران کی توانائی تنصیبات، جوہری مراکز اور میزائل و ڈرون ذخائر شامل ہوسکتے ہیں۔ تاہم یہ منصوبہ بندی صدر ٹرمپ کی جانب سے حملے کی حتمی منظوری کا ثبوت نہیں ہے۔
حملے کا فیصلہ ابھی غیر یقینی
رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ پہلے بھی ایران کے خلاف بڑی فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کے منصوبے مؤخر کرچکے ہیں۔ اس لیے نئی کارروائی کے وقت اور دائرے کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔
امریکی اور اسرائیلی منصوبہ بندی سے متعلق اطلاعات کے باوجود سفارتی کوششوں کی صورت حال بھی اہم ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے معاملات دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے اہم نکات ہیں۔
آبنائے ہرمز اور تیل کی قیمتیں
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایران پر الزام لگایا کہ وہ امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے تیل کی قیمتیں بڑھانے کی کوشش کررہا ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل اور بارودی سرنگوں سے متعلق واقعات پر بھی سوالات اٹھائے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے اہم سمندری راستہ ہے۔ اس خطے میں فوجی کشیدگی بڑھنے سے تیل کی فراہمی اور عالمی منڈیوں پر اثرات مرتب ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
اگر ایران پر دوبارہ حملے ہوتے ہیں تو ان کے ممکنہ اثرات صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہ سکتے۔ خلیجی خطے کی سلامتی، تیل کی قیمتیں اور عالمی تجارت بھی متاثر ہوسکتی ہیں۔
خطے کی صورت حال پر نظر
فی الحال امریکی صدر نے مزید کارروائی کا امکان ظاہر کیا ہے، جبکہ امریکی اور اسرائیلی منصوبوں سے متعلق اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ تاہم نئے حملوں کے آغاز، اہداف اور مدت کے بارے میں کوئی حتمی اعلان نہیں ہوا۔
آئندہ دنوں میں سفارتی رابطوں، فوجی نقل و حرکت اور واشنگٹن کے فیصلوں پر توجہ رہے گی۔ ان پیش رفتوں سے واضح ہوگا کہ کشیدگی مزید بڑھے گی یا سفارتی راستے سے کوئی پیش رفت ممکن ہوسکے گی۔