امریکی حملے کی دھمکی کے بعد ایران کا پاور شو، جدید ڈرون ٹیکنالوجی کی نمائش ، واشنگٹن کو انتباہ

امریکی حملے کی دھمکی کے بعد ایران کا پاور شو، جدید ڈرون ٹیکنالوجی کی نمائش ، واشنگٹن کو انتباہ

ایران نے جدید جنگی اور خودکش ڈرونز کی تیاری کے عمل کی ویڈیو جاری کرکے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو نمایاں کیا ہے۔ ایرانی آرمی چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے اعلان کیا ہے کہ ملک کی مسلح افواج ہر قسم کی جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی صورت حال غیر واضح ہے۔ خطے میں ممکنہ فوجی تصادم اور ایران پر نئے حملوں سے متعلق اطلاعات نے بھی کشیدگی کو نمایاں کر رکھا ہے۔

ڈرون تیاری کی ویڈیو

ایرانی میڈیا کے مطابق میجر جنرل امیر حاتمی نے جنگی اور حملہ آور ڈرونز تیار کرنے والی تنصیب کا دورہ کیا۔ انہیں وہاں ڈرون ٹیکنالوجی اور مقامی سطح پر ہتھیار تیار کرنے کے عمل پر بریفنگ دی گئی۔

ایرانی فوج کی جانب سے جاری ویڈیو میں جدید ڈرونز کی تیاری کے عمل کو نمایاں کیا گیا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے ایران نے اپنی مقامی دفاعی پیداوار اور بغیر پائلٹ ہتھیاروں کی صلاحیتوں کو سامنے رکھا ہے۔

دشمن کو حیران کرنے کا دعویٰ

میجر جنرل امیر حاتمی نے کہا کہ ایرانی فوج نے ڈرون ٹیکنالوجی میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ ان کے مطابق حالیہ جنگ کے دوران ایران نے ایسے ہتھیار استعمال کیے جنہوں نے مخالف فریق کو حیران کردیا۔

  یہ بھی پڑھیں :برطانوی ہاؤس آف لارڈز میں پاکستان کے ایران امریکہ تنازعہ میں ثالثی کردار کی تعریف

ایرانی آرمی چیف نے دعویٰ کیا کہ ان ہتھیاروں سے دشمن کو بھاری نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ ممکنہ جنگ کے لیے ایران معیار اور تعداد، دونوں اعتبار سے بہتر پوزیشن میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایرانی فوج مخالف فریق کی حکمت عملی سے آگاہ ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق فراہم کردہ رپورٹ میں موجود نہیں۔

ڈرون جنگ کا بڑھتا کردار

ایرانی آرمی چیف نے ڈرونز کے علاوہ بغیر پائلٹ بحری جہازوں اور چھوٹے فضائی طیاروں کے بڑھتے ہوئے استعمال کی نشاندہی کی۔ ان کے مطابق ان ٹیکنالوجیز کا دائرہ مسلسل وسیع ہو رہا ہے۔

جدید جنگ میں ڈرونز کی اہمیت کے پیش نظر مقامی سطح پر ان کی تیاری ایران کی دفاعی حکمت عملی کا نمایاں حصہ ہے۔ ویڈیو کا اجرا بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

تاہم صرف تیاری کی ویڈیو سے کسی ملک کی مجموعی عسکری برتری یا جنگی نتائج کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے ہتھیاروں کی عملی کارکردگی اور دیگر دفاعی صلاحیتوں سے متعلق قابلِ تصدیق معلومات ضروری ہوتی ہیں۔

ٹرمپ کا بیان اور مذاکرات

ایرانی آرمی چیف کے بیان سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات نہیں ہو رہے۔ ان کے مطابق بہت جلد کسی نہ کسی صورت میں کچھ ہونے والا ہے۔

ٹرمپ کے اس بیان میں کسی واضح معاہدے یا طے شدہ فوجی کارروائی کی تفصیل سامنے نہیں آئی۔ اس لیے ان کے الفاظ کو کسی حتمی فیصلے کا اعلان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

نئے حملوں کی رپورٹس

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر بڑے حملوں کے امکانات پر غور کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کی افواج نے ممکنہ کارروائیوں سے متعلق مشقیں بھی تیز کی ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں :پاکستان کی سفارتی کامیابیاں: بھارتی میڈیا ایران امریکہ مذاکرات میں پاکستان کا مثالی کردار تسلیم کرنے پر مجبور

رپورٹ میں ممکنہ اہداف کے طور پر ایران کی جوہری تنصیبات، میزائل اور ڈرون ذخائر اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کا ذکر کیا گیا ہے۔ زیر زمین جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے امکان پر غور کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

تاہم ان اطلاعات کو کسی حتمی حملے کے فیصلے کے برابر نہیں سمجھا جا سکتا۔ فراہم کردہ مواد میں ایسے کسی طے شدہ فوجی آپریشن کی سرکاری تصدیق شامل نہیں۔

خطے کے لیے اہم اشارہ

ایران کی جانب سے ڈرون تیاری کی ویڈیو اور آرمی چیف کا بیان خطے میں جاری کشیدگی کے دوران سامنے آئے ہیں۔ تہران کا مؤقف ہے کہ اس کی فوج ممکنہ جنگ کے لیے تیار ہے اور اس نے دفاعی ٹیکنالوجی میں پیش رفت کی ہے۔

دوسری جانب امریکا اور اسرائیل کے ممکنہ حملوں سے متعلق رپورٹس نے صورت حال پر توجہ بڑھا دی ہے۔ آئندہ پیش رفت کا انحصار سفارتی رابطوں، فریقین کے فیصلوں اور زمینی حالات پر ہوگا۔

editor

Related Articles