بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مستحق خواتین کو مالی امداد کی ادائیگی کے نظام میں نئی سہولت متعارف کرانے کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔
پروگرام کے مطابق مستحق افراد کو رقوم کی وصولی میں آسانی دینے اور غیر قانونی کٹوتیوں کی شکایات سے بچانے کے لیے ادائیگی کے طریقہ کار میں تبدیلیاں کی جارہی ہیں۔
ایڈیشنل سیکرٹری بی آئی ایس پی ڈاکٹر عصمت نواز کے مطابق بینکوں کے مجاز ایجنٹس کے ذریعے ادائیگیوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ملک کے ہر علاقے میں بینک برانچوں کی دستیابی ممکن نہیں۔
کسی بھی بینک سے رقم
ڈاکٹر عصمت نواز کے مطابق بینک بی آئی ایس پی کے سامنے جواب دہ ہیں جبکہ ادائیگی کرنے والے ایجنٹس اپنے متعلقہ بینکوں کو جواب دہ ہوتے ہیں۔ اس انتظام کے تحت مالی امداد کی ادائیگی اور اس سے متعلق شکایات کے لیے ذمہ داری کا تعین کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ انٹرآپریبلٹی کے نظام کے تحت مستحق افراد کسی بھی دن، کسی بھی وقت اور کسی بھی بینک سے اپنی رقم وصول کرنے کی سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
اس سہولت کا مقصد مستحق خواتین کے لیے رقم وصول کرنے کے عمل کو آسان بنانا ہے۔ تاہم اس نظام کے عملی نفاذ، تمام بینکوں کی شمولیت اور شکایات کے ازالے کے طریقہ کار کی مکمل تفصیلات فراہم کرنا ضروری ہوگا تاکہ مستحق افراد کو سہولت سے فائدہ اٹھانے میں مشکلات پیش نہ آئیں۔
ہر تین ماہ بعد امداد
بی آئی ایس پی کی ایڈیشنل سیکرٹری کے مطابق پروگرام کے تحت مستحق افراد کو ہر تین ماہ بعد 14 ہزار 500 روپے کی مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔
اس رقم کا مقصد کم آمدنی والے گھرانوں کو مالی سہارا دینا اور روزمرہ اخراجات میں مدد فراہم کرنا ہے۔ مستحق خواتین کے لیے یہ امداد بنیادی ضروریات پوری کرنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔
رقم وصول کرتے وقت مستحق افراد کو ادائیگی کی مکمل رقم گن کر لینے اور کسی بھی غیر مجاز کٹوتی کی صورت میں متعلقہ حکام کو شکایت کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ کسی ایجنٹ کی جانب سے بلاجواز رقم کاٹنے کی صورت میں رسید یا دستیاب ثبوت محفوظ رکھنا بھی مددگار ہوسکتا ہے۔
ڈیجیٹل والٹ کی سہولت
ڈاکٹر عصمت نواز نے واضح کیا کہ ڈیجیٹل والٹ کھلوانے کے لیے اسمارٹ فون ہونا لازمی نہیں۔ مستحق خواتین سادہ موبائل فون کے ذریعے بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔
یہ سہولت ان خواتین کے لیے اہم ہوسکتی ہے جن کے پاس مہنگا یا جدید موبائل فون موجود نہیں۔ ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے ادائیگیوں کے نظام کو زیادہ آسان بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
تاہم مستحق خواتین کو یہ معلوم کرنا چاہیے کہ ان کے علاقے میں ڈیجیٹل والٹ کی سہولت کب اور کس طریقے سے دستیاب ہوگی۔ اس کے لیے بی آئی ایس پی کی جانب سے جاری کردہ سرکاری ہدایات پر عمل کرنا ضروری ہے۔
خواتین کے لیے سوشل پروٹیکشن والٹ
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا آغاز 2008 میں ہوا تھا۔ اس کے بعد مستحق گھرانوں تک مالی امداد پہنچانے کے نظام میں مختلف تبدیلیاں کی جاتی رہی ہیں۔
حالیہ اعلان کے مطابق سوشل پروٹیکشن والٹ خصوصی طور پر بی آئی ایس پی کی مستحق خواتین کے لیے مختص ہوگا۔ اس اقدام کے ذریعے مالی امداد کی ادائیگی کے نظام کو مزید سہل بنانے کا ہدف بیان کیا گیا ہے۔
اس نئے نظام کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ مستحق خواتین کو رقم بروقت ملے، غیر قانونی کٹوتیوں کی روک تھام ہو اور شکایات پر مؤثر کارروائی کی جائے۔ ادائیگیوں کے نظام میں سہولت کے ساتھ شفافیت اور جواب دہی بھی اہم ہیں۔