یورپ بھر میں مہنگائی، بے روزگاری، بڑھتی ہوئی تعلیمی فیسوں اور متنازع قوانین کے خلاف عوامی و طلبہ احتجاج کا طوفان امڈ آیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق فرانس سے لے کر پرتگال اور پولینڈ تک سڑکیں جل رہی ہیں، جبکہ حکومتیں آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کی تیاری کر رہی ہیں۔
فرانس میدانِ جنگ بن گیا
دارلحکومت پیرس سمیت ملک بھر میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے ، مظاہرین نے مہنگائی، ایندھن کی بلند قیمتوں اور اسکولوں میں بنیادی سہولیات کے فقدان کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔
مرکزی طلبہ یونین کی کال پر پیرس سمیت ملک بھر میں ہفتے کو بڑی احتجاجی ریلیوں کا اعلان کیا گیا ہے، کشیدگی بڑھنے پر صدر میکرون نے مظاہروں پر مزید سخت پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جبکہ لیون میں ہفتے کے تمام مظاہروں پر مکمل پابندی لگا دی گئی ہے۔
سپین اور پرتگال میں جھڑپیں
ہسپانوی شہروں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جن میں پتھراؤ اور آتش گیر مواد کے حملوں سے 12 پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔ دوسری جانب، لزبن میں مہنگائی کے خلاف نکلنے والے شہریوں پر پولیس نے دھاوا بول کر احتجاجی کیمپ اکھاڑ پھینکے اور 55 افراد کو گرفتار کر لیا۔
پولینڈ اور بیلجیم میں بھی احتجاج
پولینڈ کے 20 سے زائد شہروں میں خواتین نے اسقاط حمل کے قوانین میں تبدیلی کے لیے سڑکوں کا رخ کیا، ادھر بیلجیم میں طلبہ نے یونیورسٹی کیمپسز میں ٹیوشن فیسوں میں ہوشربا اضافے کے خلاف شدید احتجاج کیا۔
اٹلی اور البانیہ میں بھی روزگار کےمواقع کی کمی اور مہنگائی کے خلاف سڑکیں بلاک کر دی گئی ہیں، جس سے پورے یورپ میں سیاسی اور سماجی بحران مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔
یہ بڑھتی ہوئی عوامی بے چینی اور احتجاجی لہر اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ یورپی حکومتوں کے لیے بڑھتی ہوئی مہنگائی، روزگار کے مواقع کی کمی اور تعلیمی مشکلات جیسے گھمبیر مسائل کو محض طاقت یا پابندیوں کے ذریعے دبانا اب ممکن نہیں رہا۔ اگر ان بنیادی معاشی و سماجی مسائل کا فوری اور پائیدار حل نہ نکالا گیا، تو یہ چنگاریاں پورے براعظم کے سیاسی استحکام کو لپیٹ میں لے سکتی ہیں۔