فرانس سمیت یورپ کے مختلف ممالک میں مہنگائی اورتعلیمی مسائل کیخلاف مظاہروں نے شدت اختیار کرلی ہے ، متعدد شہروں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جبکہ کئی عمارتوں کو آگ لگانے اور لوٹ مار کے واقعات بھی پیش آئے۔
فرانس میں احتجاج کے دوران 1200 افراد گرفتار
فرانس میں مہنگائی اور عوامی مسائل کے خلاف ملک گیر مظاہروں کے دوران پرتشدد واقعات نے صورت حال کو کشیدہ کردیا ، پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے علاوہ مختلف مقامات پر لوٹ مار اور آتش زدگی کے واقعات بھی سامنے آئے۔
خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس کے وزیر اعظم سیبسٹین لیکورنو نے بتایا کہ ہفتے کو ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں کے دوران 1200 افراد کو گرفتار کیا گیا، جبکہ احتجاج کے دوران 150 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔
وسطی پیرس میں تعینات اہلکاروں سے ملاقات کے موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ یہ ایک معجزہ ہے کہ نقصان اس سے زیادہ نہیں ہوا ، طلبہ کے کئی ہفتوں سے جاری مظاہروں کے بعد بڑے پیمانے پر ہونے والی ہنگامہ آرائی نے سیاسی بے یقینی میں بھی اضافہ کردیا ہے ، فرانس چھ ماہ بعد ہونے والے صدارتی انتخابات کی تیاری کر رہا ہے، جن میں صدر ایمانوئل میکروں کی جگہ نئے صدر کا انتخاب ہوگا۔
لیموژ کے تاریخی ٹاؤن ہال میں آگ
غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق فرانس میں مہنگائی میں اضافے کے خلاف احتجاج چوتھے ہفتے میں داخل ہوگیا ہے، ہفتے کے روز لیموژ کے ٹاؤن ہال میں آگ لگنے سے عمارت کی چھت نچلی منزلوں پر آگری، جبکہ عمارت کا تقریباً دو تہائی بیرونی حصہ تباہ ہوگیا۔
مقامی حکام کے مطابق یہ عمارت 1883ء میں تعمیر کی گئی تھی اور 1975ء میں اسے تاریخی ورثہ قرار دیا گیا تھا ، مقامی پریفیکٹ موریس باراٹ نے واقعے کو شرپسندوں کی دانستہ کارروائی کہتے ہوئے اسے تاریخی ورثے کے لیے بڑا نقصان قرار دیا۔
پیرس سمیت مختلف شہروں میں پولیس اور مظاہرین آمنے سامنے
فرانس کے دارالحکومت پیرس سمیت مختلف شہروں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں ، بعض مقامات پر نقاب پوش افراد نے سرکاری عمارتوں اور پولیس اسٹیشنوں میں داخل ہونے کی کوشش کی ، پولیس نے پرتشدد ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا ، ان واقعات نے مہنگائی کے خلاف جاری احتجاج کے دوران امن و امان کی صورت حال کو مزید کشیدہ کردیا۔
پرتگال میں ہزاروں افراد سڑکوں پر
ادھر پرتگال میں رہائش اور زندگی کے دیگر اخراجات میں اضافے کے خلاف کئی دنوں کی ہنگامہ آرائی کے بعد ہزاروں افراد لزبن کی سڑکوں پر نکل آئے ، رپورٹ کے مطابق 2017ء کے بعد سے پرتگال میں مکانات کی قیمتیں دگنی ہوچکی ہیں، جس کے باعث ملک کو یورپ میں قوتِ خرید کے بدترین بحرانوں میں سے ایک کا سامنا ہے ، رہائش کی بڑھتی ہوئی لاگت اور دیگر اخراجات نے عوامی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔
اٹلی میں بھی مہنگائی مخالف مارچ بدنظمی کا شکار
اٹلی کے شہر میلان میں مہنگائی کے خلاف نکالا جانے والا مارچ بدنظمی میں تبدیل ہوگیا، پولیس نے آنسو گیس استعمال کرکے مرکزی کیتھیڈرل اسکوائر کو خالی کرایا ، خبر رساں ادارے کے مطابق بولونیا میں بھی ایک مظاہرے کے پرتشدد رخ اختیار کرنے کے بعد پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا اور سات افراد کو گرفتار کرلیا۔
یہ مظاہرے اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مہنگائی، رہائش کے بڑھتے اخراجات اور قوتِ خرید میں کمی عوام کے لیے اہم مسائل بن چکے ہیں ، مختلف شہروں میں احتجاج کے دوران پیش آنے والے پرتشدد واقعات نے معاشی مشکلات کے ساتھ امن و امان کے چیلنجز کو بھی نمایاں کردیا ہے ، اب ان مسائل سے نمٹنے کے لیے حکومتی اقدامات اور عوامی مشکلات میں کمی کی کوششیں اہمیت اختیار کرگئی ہیں۔