امریکی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے اپنے مصنوعی ذہانت کے معاون ایجنٹ میوزمیں چیٹ شیئر کرنے کا فیچر پرائیویسی خدشات کے باعث معطل کر دیا ہے۔
سائبر سیکیورٹی محققین نے انکشاف کیا تھا کہ میوز کے ذریعے شیئر کی گئی ہزاروں گفتگوؤں کے لنکس عوامی انٹرنیٹ ریکارڈز میں تلاش کیے جا سکتے تھے۔ اس خامی کے باعث صارفین کی ذاتی اور کاروباری معلومات دوسروں تک پہنچنے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق سائبر سیکیورٹی فرم کلاروک کے محققین نے غیر فعال ڈی این ایس ریکارڈز کا جائزہ لیتے ہوئے 6 ہزار 800 سے زائد شیئر شدہ لنکس کی نشاندہی کی۔ ان ریکارڈز کے ذریعے ویب ایڈریسز کا پتا لگایا جا سکتا ہے۔
محققین نے ان لنکس کی مدد سے کئی سو چیٹس تک رسائی حاصل کی، جن میں کمپنیوں کی آمدنی سے متعلق جائزے، قرض کی درخواستیں، بینک فراڈ سے متعلق انتباہات اور ملازمت کے انٹرویوز کے خفیہ نوٹس شامل تھے۔ بعض گفتگوؤں میں بینک اکاؤنٹس کی جزوی تفصیلات جیسی حساس معلومات بھی موجود تھیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مسئلے کی ایک وجہ میوز کے یو آر ایل ڈیزائن میں موجود خامی تھی۔ ان لنکس میں گفتگو کے عنوانات اور شناختی کوڈ شامل ہوتے تھے، جس کے باعث لنکس عوامی انٹرنیٹ ریکارڈز میں محفوظ ہو سکتے تھے۔
تشویش کی بات یہ تھی کہ بعض گفتگوؤں تک رسائی کے لیے صارف کے اکاؤنٹ میں سائن اِن کرنا بھی ضروری نہیں تھا۔ یوں ایسے افراد بھی چیٹس دیکھ سکتے تھے جنہیں یہ لنکس براہ راست نہیں بھیجے گئے تھے۔
اس انکشاف کے بعد میٹا نے چیٹ شیئرنگ کا فیچر معطل کر دیا۔ یہ واقعہ مصنوعی ذہانت کی ایپلی کیشنز میں صارفین کے ڈیٹا کی حفاظت اور نجی گفتگوؤں کو شیئر کرنے کے طریقہ کار پر اہم سوالات اٹھاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اے آئی ٹولز میں ذاتی، مالی یا کاروباری معلومات درج کرتے وقت احتیاط ضروری ہے، کیونکہ معلومات کی حفاظت صرف پلیٹ فارم کی پالیسیوں ہی نہیں بلکہ اس کے تکنیکی نظام پر بھی منحصر ہوتی ہے۔