خلا سے بھی سرخ نظر آنے والا صحرا، اس کی اصل وجہ کیا ہے

خلا سے بھی سرخ نظر آنے والا صحرا، اس کی اصل وجہ کیا ہے

دنیا میں ایک ایسا صحرا بھی موجود ہے جس کی سرخ مٹی اسے زمین پر مریخ جیسا منظر پیش کرتی ہے۔ آسٹریلیا کا وسیع و عریض علاقہ ’آؤٹ بیک‘ اپنی گہری سرخ اور نارنجی مٹی کی وجہ سے دنیا بھر میں منفرد پہچان رکھتا ہے۔

ماہرین ارضیات کے مطابق اس علاقے کی مٹی میں آئرن آکسائیڈ یعنی لوہے کے آکسائیڈ کی مقدار زیادہ ہے۔ یہی مادہ مٹی کو سرخی مائل رنگ دیتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے لوہے پر زنگ لگنے سے اس کا رنگ سرخ یا بھورا ہو جاتا ہے۔

آؤٹ بیک کا یہ سرخ رنگ زمین کی سطح سے ہی نہیں بلکہ خلا سے بھی نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے زمین کا مشاہدہ کرنے والے خلاباز آسٹریلیا کے اس وسیع خطے کو سرخی مائل رنگ میں دیکھ سکتے ہیں، جس کی وجہ سے اس کا منظر مریخ کی سرخ سطح سے مشابہ محسوس ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مرسڈیز کا حادثہ، مرمت کا خرچہ اتنا کہ نئی گاڑی کا مشورہ مل گیا

اس علاقے کی ایک اور نمایاں پہچان ’اولورو‘ نامی دیو ہیکل چٹان ہے۔ یہ قدرتی چٹان اپنے حجم اور سرخی مائل رنگ کے باعث دنیا بھر میں مشہور ہے۔ طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت سورج کی روشنی کے زاویے بدلنے سے اس کے رنگ میں بھی نمایاں تبدیلی دکھائی دیتی ہے۔

آؤٹ بیک کا ماحول انتہائی سخت اور خشک ہے۔ یہاں دن کے وقت شدید گرمی پڑ سکتی ہے اور پانی کی کمی بھی زندگی کو مشکل بناتی ہے۔ اس کے باوجود یہ خطہ ریڈ کینگرو، مختلف اقسام کے سانپوں اور کئی دوسرے جنگلی جانوروں کا مسکن ہے، جو اس ماحول میں زندہ رہنے کے لیے خود کو ڈھال چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:شارک سے بھرے سمندر میں 900 میل تیراکی،خاتون نے کیسے مکمل کی خطرناک مہم

آسٹریلیا کا یہ منفرد خطہ صرف قدرتی حسن ہی نہیں بلکہ زمین کی ارضیاتی تاریخ اور حیاتیاتی تنوع کی بھی اہم مثال ہے۔ اس کی سرخ مٹی، وسیع صحرا اور غیر معمولی چٹانیں اسے دنیا کے ان مقامات میں شامل کرتی ہیں جہاں زمین کا منظر کسی دوسرے سیارے جیسا محسوس ہوتا ہے۔

editor

Related Articles