بنگلے، اراضی اور دیگر اثاثے کیسے بنے؟ شہر شہر ،گلی گلی اور کوچہ کوچہ مولانا فضل الرحمان سے منی ٹریل اور ذرائع آمدن کی تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑنے لگا
Home - آزاد سیاست - بنگلے، اراضی اور دیگر اثاثے کیسے بنے؟ شہر شہر ،گلی گلی اور کوچہ کوچہ مولانا فضل الرحمان سے منی ٹریل اور ذرائع آمدن کی تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑنے لگا
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ فضل الرحمان کے اثاثوں اور جائیدادوں سے متعلق سامنے آنے والی تفصیلات کے بعد ان کے ذرائع آمدن کی وضاحت کا مطالبہ ایک بار پھر زیر بحث آگیا ہے۔ سیاسی و عوامی حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ فضل الرحمان نے جائیدادیں، اراضی، بنگلے، دکانیں اور دیگر اثاثے کن ذرائع سے حاصل کیے گئے اور ان کی خریداری کے لیے رقم کہاں سے آئی۔
دستیاب میڈیا رپورٹس کے مطابق ماضی میں فضل الرحمان کے اثاثوں کے حوالے سے اسلام آباد، ڈیرہ اسماعیل خان، پشاور، کراچی اور کوئٹہ میں جائیدادوں سمیت دیگر املاک کے ہوشربا انکشافات ہوے ہیں۔ دسمبر 2020 میں بھی ان کے اثاثوں سے متعلق خبریں شائع ہوئیں اور قومی احتساب بیورو کی جانب سے اثاثوں، اراضی، بینک اکاؤنٹس اور ذرائع آمدن کے بارے میں سوالنامہ بھیجے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ تاہم ان تحقیقات کے حتمی نتیجے کے بارے میں دستیاب حالیہ رپورٹ میں واضح معلومات موجود نہیں۔
اثاثوں سے متعلق ان تفصیلات کے تناظر میں مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان اپنی جائیدادوں کی ملکیت، خریداری کے ذرائع اور آمدن کی تفصیلات عوام کے سامنے واضح کریں۔ سوال یہ ہے کہ مختلف شہروں میں موجود بتائی جانے والی املاک، زرعی اراضی اور کمرشل جائیدادوں کی خریداری کب ہوئی، ان کی مالیت کیا تھی اور ان کے لیے رقم کے ذرائع کیا تھے۔
لاہور، پشاور، کوئٹہ، کراچی، فیصل آباد، ملتان، حیدرآباد، ڈیرہ اسماعیل خان اور سوات سمیت ملک کے مختلف شہروں میں اثاثوں کی شفافیت اور سیاست دانوں کے مالی معاملات پر جواب دہی کا مطالبہ سامنے لانے کی ضرورت پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔ عوامی عہدوں پر فائز رہنے والے سیاسی رہنماؤں کے مالی معاملات کی وضاحت کو شفافیت اور احتساب کے اصولوں کا اہم حصہ قرار دیا جاتا ہے
فضل الرحمان کے اثاثوں سے متعلق اٹھنے والے سوالات کا واضح جواب دینے کے لیے ان کے مالی گوشواروں، جائیدادوں کی تفصیلات اور ذرائع آمدن کے بارے میں مستند معلومات سامنے آنا ضروری ہیں۔ اسی طرح ماضی میں شروع ہونے والی تحقیقات کے انجام سے متعلق بھی متعلقہ اداروں کی وضاحت اہم ہوگی تاکہ عوامی سطح پر گردش کرنے والے دعوؤں اور مصدقہ حقائق کے درمیان فرق واضح ہو سکے۔