عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 5 ماہ کی بلند ترین سطح پرپہنچ گئیں

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 5 ماہ کی بلند ترین سطح پرپہنچ گئیں

مشرق وسطی کی صورتحال کی طرح بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں مسلسل اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں ، تیل کی قیمتیں پانچ ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں ۔

عالمی منڈی میں تجارتی تناؤ، سپلائی کے خدشات اور معاشی اشاریوں کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تیزی کا رجحان برقرار ہے، جس سے عالمی سطح پر مہنگائی کی نئی لہر کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

ایشیائی مارکیٹ کا احوال 

خبر رساں ادارے رائٹرز کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، جمعہ کے روز ایشیائی کاروباری اوقات کے آغاز پر عالمی معیار کے ‘برینٹ خام تیل’ (Brent Crude) کی قیمت میں معمولی 0.2 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد اس کی قیمت 112.96 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔ 

یہ بھی پڑھیں :مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے اثرات ، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

دوسری جانب، امریکی خام تیل ‘ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ’ (WTI) کی قیمت میں بھی 0.3 فیصد کی معمولی سستی دیکھی گئی، جس کے بعد یہ 98.12 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ریکارڈ کی گئی۔

برینٹ کی قیمتوں میں 4 فیصد کا بڑا ہدف

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ  آج (جمعہ ) کو ہونے والی یہ معمولی کمی دراصل منافع خوری کا نتیجہ ہے، ورنہ مجموعی طور پر مارکیٹ میں تیزی کا رجحان ہی غالب ہے۔ اس سے قبل جمعرات کے روز تجارتی سیشن کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت میں یکدم 4 فیصد کا بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا تھا، جس کے بعد تیل کی قیمتیں مئی کے اوائل کے بعد اپنی بلند ترین اختتامی سطح پر پہنچ گئی تھیں۔

ہفتہ وار بنیادوں پر برینٹ کا تسلسل اور ڈبلیو ٹی آئی کی صورتحال

ہفتہ وار بنیادوں پر جائزہ لیا جائے تو برینٹ خام تیل مسلسل تیسرے ہفتے بھی مجموعی طور پر اضافے کی جانب گامزن ہے، جو بین الاقوامی منڈی میں طلب میں اضافے کا واضح اشارہ ہے۔ تاہم، اس کے برعکس امریکی خام تیل (WTI) کے لیے صورتحال تھوڑی مختلف ہے، جہاں گزشتہ تین ہفتوں کے دوران پہلی بار ہفتہ وار بنیادوں پر معمولی کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

عالمی معیشتوں پر ممکنہ منفی اثرات

انرجی سیکٹر سے وابستہ تجزیہ کاروں کے مطابق ان دنوں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں پر کئی عوامل اثر انداز ہو رہے ہیں، جن میں تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک پلس) کی جانب سے پیداواری پالیسیاں، ایندھن کی عالمی طلب اور جغرافیائی سیاسی کشیدگیاں شامل ہیں۔

آنے والے دنوں میں اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو دنیا بھر کی معیشتوں بالخصوص در آمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ترقی پذیر ممالک پر معاشی بوجھ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

editor

Related Articles