افغان پروکسی ہینڈل کا ڈرامہ فلاپ، وزیراعظم شہباز شریف پر معید پیرزادہ کا حوالہ دے کر گھڑی گئی کہانی من گھڑت نکلی

افغان پروکسی ہینڈل کا ڈرامہ فلاپ، وزیراعظم شہباز شریف  پر معید پیرزادہ کا حوالہ دے کر گھڑی گئی کہانی من گھڑت نکلی

آزاد فیکٹ چیک نے وزیر اعظم شہبازشریف کے دوروں اور اپیکس کمیٹی پشاور سے متعلق افغان اسپانسرڈ ہینڈل کا زہریلا پروپیگنڈا بے نقاب کردیا ۔ 

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر افغان سرپرستی میں چلنے والے ایک پروکسی ہینڈل  کی جانب سے مفرور تجزیہ نگار معید پیرزادہ کا حوالہ دے کر یہ گمراہ کن بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے کہ “وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنا آدھا دورِ حکومت بیرون ملک دوروں میں گزارا اور انہیں فوج کی طرف سے زبردستی پشاور کی اپیکس کمیٹی میں بھیجا گیا”۔

رپورٹ کے مطابق یہ دعویٰ مکمل طور پر فیک نیوز، من گھڑت، لغو اور حقیقت کے برعکس ہے ، حقیقت یہ ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف کے غیر ملکی دورے مکمل طور پر طے شدہ اور باضابطہ سفارتکاری کا حصہ ہوتے ہیں، جن کا بنیادی مقصد پاکستان کے لیے دو طرفہ معاشی سرمایہ کاری، عالمی مالیاتی امداد اور علاقائی سیکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔ ان کے دورِ حکومت کا بڑا حصہ براہِ راست ملکی معیشت کی بحالی اور انتظامی امور کی دیکھ بھال پر محیط ہے۔

اپیکس کمیٹی اور آئینی ذمہ داری

پشاور میں ایپکس کمیٹی کا اجلاس براہ راست وزیر اعظم کی زیر صدارت ہوا جس میں وفاقی حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے ان کی آئینی ذمہ داری کے تحت سول ملٹری سیکیورٹی کوآرڈینیشن کا جائزہ لینے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور قومی پالیسی کے تحت انسداد دہشت گردی کی کوششوں کی نگرانی کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں : بیمار والدہ کی بے دخلی کا ڈرامہ، مفرور مراد سعید کے بھائی سے گھر واگزار کروانے پر پی ٹی آئی کا جھوٹا پراپیگنڈہ بے نقاب

اس اجلاس کا مقصد سول و ملٹری سیکیورٹی کے مابین ہم آہنگی، لاء انفورسمنٹ اداروں کی صلاحیتوں میں اضافہ اور انسدادِ دہشت گردی کی قومی پالیسی کا جائزہ لینا تھا، نہ کہ کسی کے دباؤ میں آ کر کیا گیا کوئی اقدام۔

بیرون ملک بیٹھے مفروروں ، دشمنوں کے جھوٹے ہتھکنڈے 

بیرون ملک بیٹھے مفرور تجزیہ کار اور دشمن کے آلہ کار ہینڈلز ملکی اداروں کے درمیان تصادم، حکومتی نااہلی اور ناکامی کا تاثر دینے کے لیے اس قسم کے جھوٹے بیانیے مسلسل گھڑتے رہتے ہیں۔

غیر ملکی ٹکڑوں پر پلنے والے اس افغان پروکسی ہینڈل اور مفرور تجزیہ نگار کی یہ ہرزہ سرائی کسی باقاعدہ صحافت کا حصہ نہیں بلکہ پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کی جنگ اور آئینی حکمرانی پر کیا گیا ایک بزدلانہ سائبر حملہ ہے۔

قومی سلامتی کے اداروں اور اعلیٰ سول قیادت کے درمیان دراڑیں ڈالنے کی یہ مذموم سازش کسی صورت کامیاب نہیں ہوگی ،  عوام کو چاہیے کہ بیرونی آقاؤں کے اشارے پر ناچنے والے ایسے کرائے کے تجزیہ کاروں  اور جھوٹ کے تاجروں کے زہریلے پروپیگنڈے کو یکسر مسترد کر کے صرف اور صرف مصدقہ اور سرکاری ذرائع ابلاغ پر اعتماد کریں۔

editor

Related Articles