پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کے لیے دونوں ممالک سے رابطے میں ہے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے پر یقین رکھتا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ اکستان عالمی برادری کا ذمہ دار رکن ہے اور عالمی پابندیوں کے بین الاقوامی اور ملکی سطح پر نفاذ پر یقین رکھتا ہے۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکہ نے مذاکرات کے لیے نکات کا فیصلہ خود کرنا ہے، جبکہ اسلام آباد مذاکرات اور سفارت کاری کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان ایران سرحد کی بندش کے حوالے سے زمینی معلومات دستیاب نہیں ہیں، تاہم دونوں ممالک کے درمیان زائرین کی آمدورفت جاری ہے۔
حوثی حملوں کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے متعلقہ آرٹیکل کے تحت تینوں ممالک مل کر فیصلہ کریں گے۔ ترجمان کے مطابق پہلے ای تھری اجلاس کے بعد آر فور اجلاس ہوگا اور ان دونوں اجلاسوں کے بعد ای تھری اور آر فور ممالک کی میٹنگ ہوگی۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بدر مفاہمتی یادداشت کے حوالے سے بتایا کہ اس کا اعلان قطر میں کیا گیا تھا اور وزیر دفاع نے اس اجلاس میں شرکت کی تھی۔ انہوں نے اسے انتہائی اہم مفاہمتی یادداشت قرار دیتے ہوئے کہا کہ چاروں ممالک دفاعی صنعت کے مختلف شعبوں میں مہارت رکھتے ہیں۔ امید ہے کہ چاروں ممالک اس یادداشت کے تحت ایک دوسرے سے مفید نتائج حاصل کریں گے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ بدر مفاہمتی یادداشت صنعتی شعبے میں دفاعی تعاون کا احاطہ کرتی ہے۔
افغانستان کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان بات چیت کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ افغانستان اپنی سرزمین سے پاکستان مخالف خطرات کا خاتمہ کرے۔ ان کے مطابق اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 20 سے زائد عسکریت پسند اور دہشت گرد گروہ موجود ہیں۔
ترجمان نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے پاکستان کے جوہری ریاست ہونے سے متعلق بیان کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری پر مبنی انتہائی مضبوط تعلقات ہیں۔
سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ یہ بلا شبہ پاکستان اور بھارت کے درمیان معاہدہ ہے، تاہم مستقبل کے لیے اس کی اہمیت ایک مثال کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کے مطابق اگر بالائی دریا کنارے واقع ملک پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرتا ہے تو اس کے اثرات دنیا کے دیگر خطوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے اثرات عالمی سطح پر آبی نظم و نسق اور بین الاقوامی معاہدوں پر مرتب ہوں گے۔ پاکستان اپنے حصے کا پانی کسی دوسرے رخ پر منتقل نہیں ہونے دے گا۔