پشاور میں منشیات کی عدم دستیابی اور قیمتوں میں غیر معمولی اضافے سے نشے کے عادی افراد پریشانی کا شکار ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے چند سو روپے میں ملنے والی منشیات اب ہزاروں روپے میں بھی دستیاب نہیں، جبکہ دستیاب مال کا معیار بھی غیر تسلی بخش ہے۔
خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف سے نجات اور صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاد کے بعد صوبے سے منشیات فروش غائب ہوگئے ہیں جس کے باعث شہر میں منشیات کی سپلائی شدت متاثر ہوگئی ہے۔
منشیات کی عدم دستیابی کے باعث منشیات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ہوا ہے۔ نشے کے عادی افراد کا کہنا ہے کہ پہلے 300 سے 500 روپے میں سگریٹ کے برابر مقدار میں مال مل جاتا تھا، لیکن اب یہی مقدار 5 ہزار روپے میں بھی نہیں مل رہی۔ ان کے مطابق قیمتوں میں اضافے کے ساتھ دستیابی کا مسئلہ بھی سنگین ہو گیا ہے۔
پشاور میں نشے کے عادی افراد کا کہنا ہے کہ انہیں منشیات کے حصول کے لیے کارخانوں اور مارکیٹوں کے بجائے سبزی منڈی یا جم بازار کا رخ کرنے کا کہا جاتا ہے، لیکن وہاں بھی مال یا تو دستیاب نہیں ہوتا یا پھر انتہائی مہنگے داموں ملتا ہے۔ بعض افراد کے مطابق دور دراز علاقوں سے سگریٹ جتنی مقدار بھی تقریباً ڈھائی ہزار روپے میں حاصل ہو رہی ہے، جس سے ان کے لیے گزارا مزید مشکل ہو گیا ہے۔
ان افراد کا کہنا ہے کہ وہ سرد موسم میں مختلف مقامات پر بھٹکنے پر مجبور ہیں اور ان کی شکایت ہے کہ اب پیسے ہونے کے باوجود مطلوبہ چیز دستیاب نہیں۔ انہوں نے گورنر خیبر پختونخوا سے اپیل کی ہے کہ ان کے مسئلے پر توجہ دی جائے اور انہیں اس صورت حال میں انصاف فراہم کیا جائے۔
یہ شکایت صرف چرس استعمال کرنے والوں تک محدود نہیں، بلکہ ہیروئن یا دیگر نشہ آور مواد استعمال کرنے والے افراد بھی اسی نوعیت کی مشکلات کا ذکر کر رہے ہیں۔ سُوری پل اور ریلوے پل کے نیچے موجود بعض افراد کا کہنا ہے کہ پہلے منشیات آسانی اور نسبتاً سستے داموں مل جاتی تھیں، لیکن پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے بعد سے قیمتوں اور دستیابی کی صورت حال تبدیل ہو گئی ہے۔
ان افراد کے مطابق اب مسئلہ صرف قیمتوں کا نہیں بلکہ منشیات کی عدم دستیابی کا بھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض اوقات فون پر رابطے کے باوجود بھی مطلوبہ چیز نہیں ملتی۔ انہوں نے نئی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس صورت حال کی وجوہات کا جائزہ لیا جائے اور مسئلے پر توجہ دی جائے۔