امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس سے خطے میں کشیدگی میں کمی کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں تاہم حتمی معاہدے کے لیے اب بھی کئی بنیادی معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری بات چیت میں پیش رفت ہو رہی ہے، لیکن کسی بھی ممکنہ جنگ بندی یا معاہدے کے لیے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق امریکی خدشات کا ازالہ ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کی “ریڈ لائن” واضح ہے، جس کے مطابق ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے مضبوط اور قابلِ اعتماد حفاظتی اقدامات لازمی ہیں۔ ان کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ آیا اتنی پیش رفت ممکن ہو سکے گی جو ان شرائط کو پورا کرے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ سفارتی رابطے اب بھی جاری ہیں، جن میں مختلف علاقائی شراکت داروں کے ساتھ ساتھ پاکستانسا بھی ثالثی کے کردار میں شامل ہے۔
رپورٹس کے مطابق خلیجی ممالک بھی اس سفارتی عمل میں معاونت فراہم کر رہے ہیں، تاہم ایران کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ وہ اپنے دفاعی اور جوہری پروگرام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ دوسری جانب امریکا یورینیم افزودگی اور میزائل پروگرام سے متعلق سخت شرائط پر زور دے رہا ہے۔