فواد چوہدری کی پی ٹی آئی کی سینئر قیادت سے رابطوں کی تصدیق

فواد چوہدری کی پی ٹی آئی کی سینئر قیادت سے رابطوں کی تصدیق

سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے پی ٹی آئی کی سینئر قیادت سے رابطوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان حالات میں بانی تحریک انصاف اگلے تیرہ مہینوں میں باہر نہیں آسکتے۔

سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کا صحافیوں سے ایک نجی ہوٹل میں غیر رسمی گفتگومیں کہنا تھا کہ ان حالات میں بانی تحریک انصاف اگلے تیرہ مہینوں میں باہر نہیں آ سکتے۔ سابق وزیر نے کہا کہ فوج ہمارا اپنا ادارہ ہے ہم کبھی لڑنے اور اسے کمزور کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے، آپ لوگ کیسے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کرنے کا کہہ رہے ہیں۔ پاکستان میں اس حکومت کو آئین اور قانون کی کوئی پرواہ نہیں ہے، سیاسی اور اخلاقی لحاظ سے یہ حکومت ہار گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانی تحریک انصاف تو 8 فروری کے الیکشن میں جیت گیا اور موجودہ حکومت ہار گئی، اخلاقی جواز ہوتا تو ہارے ہوئے لوگ حکومت نہ بناتے۔ بندوق ہم اٹھا نہیں سکتے اور وہ لوگ کہہ رہے ہیں زبردستی ہم حکومت تو لے نہیں سکتے۔

فواد چوہدری نے بتایا کہ جیل سے باہر آتے ہی سب سے پہلے اسد قیصر سے رابطے میں کہا کہ مولانا فضل الرحمان سے رابطے کیے جائیں۔ جبکہ موجودہ پی ٹی آئی قیادت کی یہ حکمت عملی ہے کہ وکیل کے ذریعے عدالت سے رجوع کریں تو کیس لڑیں۔ ایسے تو بانی پی ٹی آئی کبھی باہر نہیں آسکتے، ان کا کہنا تھا کہ موجودہ قیادت کو 9 فروری کو ہی احتجاج کرنا چاہیئے تھا۔ شبلی فراز نے کہا تھا کہ پارلیمنٹ میں آواز اٹھانی چاہئیے۔ بھئی پارلیمنٹ میں تو آپ کو جانے ہی نہیں دیا جا رہا تو پارلیمنٹ میں جنگ کیسے لڑیں گے؟۔ احتجاج کی کال دی جائے تو اس میں چار وکیل ہوتے ہیں، باقی بیس سے پچیس کارکن، ایسے ہوتا ہے احتجاج ؟۔

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان، جماعت اسلامی، پی ٹی آئی، جی ڈی اے، انہیں اکھٹا ہونا پڑے گا۔ حافظ نعیم سے بھی میری تفصیلی ملاقات ہوئی، تمام اپوزیشن جماعتیں چاہتی ہیں کہ اتحاد ہو۔فواد چوہدری نے مشورہ دیا کہ خیبرپختونخوا میں اسپیکر کا عہدہ جے یو آئی کو دینا چاہیئے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی شیخ وقاص اکرم کی بجائے جے یو آئی کو دینی چاہئے۔ سندھ میں جی ڈی اے کو نمائندگی دی جانی چاہیئے۔ ہر بندہ بانی تحریک انصاف کے بعد برابر ہے، موجودہ قیادت میں غیر سیاسی لوگ ہیں۔ پولیٹیکل ٹیم پی ٹی آئی میں نظر نہیں آ رہی۔

انہوں نے مزید کہا اگر بانی تحریک انصاف یہ لڑائی ہار گیا تو پھر ملک کا اللہ ہی حافظ ہے، یہ لڑائی بانی تحریک انصاف ملک کے لیے لڑ رہے ہیں۔ جو لوگ بانی تحریک انصاف سے مل رہے ہیں وہ کسی پوزیشن میں نہیں کہ کوئی انفارمیشن دے سکیں۔ شبلی فراز میرا اچھا دوست ہے لیکن وہ سیاست میں اتنا عبور نہیں رکھتے جو رکھنا چاہئیے۔ میری بات علی امین گنڈاپور اور دیگر سیاسی لوگوں سے ہوتی رہتی ہے، احتجاج سے غریب لوگوں کو تکلیف ہوگی اور غریب ہی گرفتار ہوگا۔ احتجاج کی بجائے سینیٹ و قومی اسمبلی میں احتجاجی کیمپ لگائیں۔ میڈیا کی کوریج ہی چاہئیے تو پھر احتجاجی کیمپ لگائیں۔ جلسوں سے غریب کارکن گرفتار اور متاثر ہو گا۔ بے نظیر بھٹو نے 17 لوگوں کے ساتھ اس وقت کی حکومت کو چکرا کر رکھ دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ شیخ رشید کے ساتھ موجودہ قیادت نے بہت زیادتی کی، بانی تحریک انصاف کو شیخ رشید بارے میں غلط اطلاعات دی گئیں۔ انہوں نے بتایا شاہد خاقان عباسی کو میں نے مشورہ دیا تھا کہ اپنی نئی پارٹی کا نام مسلم لیگ رکھیں۔ یہ بات طے ہے کہ ن لیگ آنے والے وقتوں میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گی۔ مسلم لیگ ن کے اندر کافی دھڑے بن چکے ہیں، ن لیگ کا ٹارگٹ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے پی ٹی آئی کو ختم کیا جائے، پھر آگے دیکھا جائے۔ جو قربانیاں ہم نے دی ہیں شبلی فراز، روف حسن و دیگر تو اپنے گھروں میں تھے، جس کو پارٹی چھوڑنے کا نہیں کہا گیا وہ گھروں میں تھے۔ بیرسٹر گوہر علی شریف انسان ہیں سیاست میں ان کا کوئی رول نہیں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *